امریکیوں کی بڑی تعداد آن لائن ہراسمنٹ کا شکار -
The news is by your side.

Advertisement

امریکیوں کی بڑی تعداد آن لائن ہراسمنٹ کا شکار

واشنگٹن: امریکا میں انٹرنیٹ کے تقریباً نصف صارفین کا کہنا ہے کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی آئن لائن ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں۔

امریکا کے ڈیٹا اینڈ سوسائٹی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں تقریباً نصف انٹرنیٹ صارفین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے نام کا مذاق اڑانے اور ان کی تصاویر پر خراب تبصرے کرنے سے لے کر انہیں آن لائن جسمانی تشدد کی دھمکیاں تک موصول ہوتی ہیں۔

ادارے نے آن لائن ہراسان کیے جانے کے زمرے میں ان رابطوں کو بھی شامل کیا جو صارف کی مرضی کے بغیر اس سے کیے جاتے ہیں۔

انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک *

ان صارفین میں سے 36 فیصد افراد نے براہ راست ہراسمنٹ کا سامنا کیا جس میں انہیں برے ناموں سے پکارے جانے سے لے کر جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکیاں تک شامل ہیں۔

ہر 10 میں سے 3 افراد نے شکایت کی کہ ان کے ذاتی ڈیٹا یا تصاویر کو چرایا گیا یا ان کی اجازت کے بغیر اس کو کسی اور کی جانب سے پوسٹ کیا گیا۔

ریسرچ کی سربراہ امنڈا لین ہرٹ کا کہنا ہے کہ آئن لائن ہراسمنٹ کی اس قدر بڑی شرح نہایت خطرناک بات ہے اور یہ ان افراد کو بھی متاثر کر رہی ہے جو براہ راست اس کا شکار نہیں ہورہے۔

دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 3 ارب سے تجاوز *

آن لائن ہراسمنٹ کا شکار ان صارفین کی بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے اس کے خلاف اقدامات اٹھائے۔43 فیصد صارفین نے اپنا ای میل ایڈریس یا فون نمبر تبدیل کردیا اور سوشل میڈیا کا نیا اکاؤنٹ بنا لیا۔ 33 فیصد افراد نے اس معاملے میں کسی دوست یا خاندان کے کسی فرد سے مدد چاہی، یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لی۔

واضح رہے کہ آئن لائن ہراسمنٹ دنیا بھر میں ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور مختلف انٹرنیٹ پلیٹ فارمز اس ضمن میں اپنے صارفین کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں