قاہرہ (13 دسمبر 2025): اسرائیل نے غزہ سٹی میں مزاحمتی تنظیم حماس کے اہم ترین کمانڈر رائد سعد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں ایک گاڑی پر حملے کے دوران حماس کے سینئر کمانڈر رائد سعد کو نشانہ بنایا جو اسرائیل کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملے کے منصوبہ سازوں میں شامل تھے۔
یہ دعویٰ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے تاہم اب تک اسرائیلی فوج یا حماس کا اس پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
غزہ کی وزارت صحت نے حملے کے بارے میں بتایا کہ اسرائیلی حملے میں 4 افراد شہید اور کم از کم 25 زخمی ہوئے تاہم یہ تصدیق نہیں کی گئی شہدا میں رائد سعد بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ سٹی میں حماس کے ایک سینئر کمانڈر کو نشانہ بنایا، تاہم بیان میں نام یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ رائد سعد کا شمار مزاحمتی تنظیم کے سینئر ترین کمانڈرز میں ہوتا ہے اور وہ اہم شخصیت ہیں۔ وہ عزالدین کے بعد حماس کے عسکری ونگ کے دوسرے اہم ترین کمانڈر ہیں۔
ذرائع کے مطابق رائد سعد اس سے قبل حماس کے غزہ سٹی بٹالین کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں جو تنظیم کی سب سے بڑی اور جدید اسلحے سے لیس یونٹس میں شمار ہوتی ہے۔
اسرائیل حماس جنگ کا آغاز
غزہ میں جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔
اسرائیل کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 70700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
10 اکتوبر 2025 کو ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی غزہ شہر کے تباہ شدہ علاقوں میں واپس آئے۔ اسرائیل نے شہر میں اپنی فوجی پوزیشنوں سے انخلا کیا اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 386 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


