(15 جنوری 2026): جنگ کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالنے کیلیے ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے ردعمل کا اظہار کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حماس کے سینئر عہدیدار باسم نعیم نے ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خطرے کو روکنے میں مدد ملے گی۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے مصر نے 15 رکنی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمیٹی ایک بورڈ آف پیس کی مجموعی نگرانی میں کام کرے گی جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش میں حصہ نہیں لیں گے: اسحاق ڈار
حماس رہنما باسم نعیم نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل درست سمت میں ایک قدم ہے، یہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے، جنگ کی واپسی کو روکنے، تباہ کن انسانی بحران سے نمٹنے اور جامع تعمیرِ نو کی تیاریوں کیلیے انتہائی اہم ہے۔
واضح رہے کہ حماس نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ غزہ میں مستقبل کی کسی بھی گورننگ اتھارٹی میں شامل ہونے کی خواہاں نہیں ہے اور وہ اپنی شمولیت کو صرف حکمرانی کی نگرانی تک محدود رکھے گی۔
باسم نعیم نے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی کا انتظام اس قومی عبوری کمیٹی کے حوالے کرنے اور اس کے کام میں سہولت فراہم کرنے کیلیے تیار ہے، اب گیند ثالثوں، امریکی ضمانتی اور عالمی برادری کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس کمیٹی کو بااختیار بنائیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی کے اگلے مراحل میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالنے کی مبینہ کوششوں کو روکیں۔
غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ
گزشتہ روز امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اعلان کیا کہ غزہ جنگ بندی اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اہم نکات میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا، علاقے کو ہتھیاروں سے پاک کرنا بشمول حماس کو غیر مسلح کرنا اور امداد کی فراہمی میں تیزی اور تعمیر نو کے ذریعے انسانی بحران کے حل کے اقدامات شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


