غزہ (14 مارچ 2026): حماس نے ایران سے اپیل کی ہے کہ مشرقی وسطیٰ کے ممالک پر حملے روکے جائیں۔
عرب نیوز کے مطابق فلسطینی گروہ حماس نے ہفتے کے روز ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، تاہم ساتھ ہی تہران کے اس حق کی توثیق کی کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کارروائی کر سکتا ہے۔
حماس نے کہا خطے کے تمام ممالک جارحیت روکنے اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے تعاون کریں، بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کو اسرائیل اور امریکی جارحیت کے خلاف دفاع کا حق ہے۔
بیان میں کہا گیا ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے اس حق کی توثیق کرتے ہوئے کہ وہ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق اس جارحیت کا ہر ممکن ذریعے سے جواب دے، تحریک ایران میں اپنے بھائیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے سے اجتناب کریں۔‘‘
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
غزہ میں اسرائیل کے ساتھ 2 سال تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ لڑنے والے حماس نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ جاری جنگ کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ حماس نے جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’گھناؤنا جرم‘‘ قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ ایرانی فوج مسلسل سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ بیس کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ دبئی کے مرکز میں ایک ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ ڈرون کا ملبہ ایک عمارت پر جا گرا۔ دوحہ میں بھی رات گئے حملے ہوئے، قطری حکومت کا کہنا ہے بیلسٹک میزائل حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ڈرون حملے کیے گئے، سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے متعدد ڈرونز حملے ناکام بنا دیے گئے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


