دوحہ (8 فروری 2026): حماس کے سینیئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ غزہ میں کسی غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہتھیار ڈالیں گے، مزاحمت جاری رہے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس نے ہتھیار ڈالنے اور غزہ پر کسی بھی غیر ملکی حکومت کو تسلیم کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا ہے۔
دوحہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ اسرائیل نسل کشی آسان بنانے کے لیے فلسطینیوں کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننا چاہتا ہے، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، جب تک غزہ پر غاصبانہ قبضہ برقرار ہے، بھرپور مزاحمت جاری رہے گی۔
حماس کے سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ غزہ صرف فلسطینیوں کا ہے اور اس پر فلسطینی ہی حکومت کریں گے، انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد کے لیے متوازن راستہ نکالے لیکن فلسطینیوں پر کوئی بیرونی فیصلہ مسلط نہ کیا جائے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اس سے قبل کئی بار کہہ چکی ہے کہ ہتھیار ڈالنا اس کے لیے سرخ لکیر ہے، تاہم اس نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں قائم ہونے والی کسی فلسطینی اتھارٹی کے حوالے سے ہتھیاروں کی منتقلی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ خالد مشعل اس سے قبل حماس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، حماس طویل عرصے سے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضے کیخلاف برسرپیکار ہے۔
7اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا جس کے بعد جنگ کا آغاز ہوا، بعد ازاں امریکہ کی ثالثی میں غزہ میں طے پانے والی جنگ بندی اس وقت اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں علاقے کو غیرفوجی بنانے، بشمول حماس کو غیرمسلح کرنے اور اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا شامل ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



