(19 اکتوبر 2025): حماس نے امریکی محکمہ خارجہ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ اس کے پاس "معتبر اطلاعات” ہیں کہ فلسطینی گروپ حماس غزہ میں شہریوں کے خلاف فوری حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس اقدام کے بارے میں واشنگٹن نے کہا ہے کہ یہ "جنگ بندی کی خلاف ورزی” ہو گا۔
جس پر حماس نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی الزامات اسرائیل کے جرائم اور جارحیت کو چھپانےکی کوشش ہیں، امریکا سےکہتے ہیں وہ اسرائیل کے بیانیے کو دہرانا بند کرے۔
حماس کا کہنا ہے کہ تمام الزامات سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں، حماس نے دعویٰ کیا کہ "یہ بے بنیاد باتیں مکمل طور پر اسرائیلی گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہم آہنگ ہیں”۔
حماس کے مطابق "زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں”،کیونکہ "اسرائیل نے خود ہی ایسے مجرمانہ گروہوں کو تشکیل دیا، انہیں اسلحہ فراہم کیا اور مالی مدد دی، جنہوں نے فلسطینی شہریوں کے قتل، اغوا، امدادی قافلوں سے سامان لوٹنے اور دیگر مجرمانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔
حماس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی میڈیا اور ویڈیوز نے خود ان جرائم کا اعتراف کیا ہے، جو اسرائیل کے اس فتنہ انگیز کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ حماس غزہ میں شہریوں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جو امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے جاری بیان میں کہا تھا کہ اگر حماس نے حملہ کیا تو غزہ کے شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


