خوب رُو، دراز قد حمید اختر کی آواز بھی خوب تھی۔ حمید اختر نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو اپنی دل چسپی اور رجحان کے شعبہ میں آزمانے کا فیصلہ کیا اور بمبئی پہنچ گئے۔ وہ بطور اداکار اور صدا کار قسمت آزمانا چاہتے تھے۔ ان کی یہ کوشش رنگ لائی اور ایک فلم ’آزادی کی راہ پر‘ میں ان کو سائیڈ ہیرو کا رول بھی مل گیا، لیکن یہ سلسلہ یہیں پر تمام بھی ہو گیا۔ انھوں نے نام و مقام تو بنایا، مگر بطور صحافی، ادیب اور ایک مقبول کالم نگار۔ انھیں ترقی پسند تحریک کے کارکن کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا تھا۔
حمید اختر متحدہ ہندوستان کے ضلع لدھیانہ میں 1924ء میں پیدا ہوئے اور وہیں ان کی تعلیم و تربیت کے مراحل طے ہوئے۔ مشہور شاعر اور فلمی گیت نگار ساحر لدھیانوی سے ان کی بچپن کی دوستی تھی۔ اسی طرح ممتاز مزاح نگار اور شاعر ابن انشاء سے بھی اسکول کے زمانہ میں ان کے دوست بن گئے تھے۔ وقت گزرا تو حمید اختر اور ان کے یہ دوست علم و ادب اور فن و ثقافت میں گہری دل چسپی لینے لگے اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ بعد میں انھیں ادب و فنون کی دنیا میں بڑا نام و مقام ملا۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں ترقی پسند فکر اور ادبی رجحانات عروج پر تھے۔ جس عرصہ میں ساحر اور انشاء نے ادبی تحریروں کی وجہ سے پہچان بنانا شروع کی تھی حمید اختر کوچۂ صحافت میں قدم رکھ چکے تھے۔ جلد ہی انھوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین سے ناتا جوڑ لیا۔ ان کی عملی صحافت کا آغاز لاہور میں روزنامہ امروز سے ہوا۔ بعد میں وہ اس کے مدیر بنے اور پھر کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا تو آخری عمر تک جاری رہا۔
بمبئی میں قیام کے دوران حمید اختر کی ملاقاتیں کرشن چندر، سجاد ظہیر، سبطِ حسن اور ابراہیم جلیس جیسے بڑے اہلِ قلم اور ترقی پسند مصنّفین سے ہوئیں اور پھر ان سے گہری شناسائی ہوگئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد حمید اختر پاکستان آگئے جہاں ان دنوں اشتراکی فکر کے حامل دانش وروں اور اہلِ قلم پر کڑا وقت آیا ہوا تھا۔ حمید اختر بھی اسی فکر کے پرچارک تھے اور یہاں ان کی یہی سرگرمیاں ان کی گرفتاری کا سبب بن گئیں۔ دو سال قید کاٹنے کے بعد انھوں نے ’کال کوٹھڑی‘ کے عنوان سے ایامِ اسیری کی روداد بھی رقم کی۔ اسیری کے انہی دنوں کی ایک یاد انھوں نے یوں تحریر کی ہے۔
”ایک روز میں تنہائی سے تنگ آکر بوکھلا گیا، شام کو ڈپٹی صاحب آئے تو میں نے ان سے کہا، ”جناب عالی! میں اس تنہائی سے پاگل ہو جاﺅں گا۔ میں نے کوئی سنگین جرم نہیں کیا، میرے وارنٹ پر قیدِ تنہائی کی سزا نہیں لکھی۔ مجھے سیفٹی ایکٹ میں نظر بند کرنے کا وارنٹ ہے، قیدِ تنہائی میں ڈالنے کے لیے نہیں لکھا ہوا، اگر مجھے مارنا ہی ہے تو ایک ہی دن مار کر قصہ ختم کر دیجیے۔
ڈپٹی صاحب نے بہت سوچ بچار کے بعد بظاہر ہمدردانہ لہجے میں کہا: ” تمہارے وارنٹ پر تنہائی کی قید نہیں لکھی ہوئی، مگر تمہاری تنہائی آٹو میٹک قسم کی ہے، کیونکہ نظر بندوں کے قانون میں یہ لکھا ہوا ہے کہ انھیں دوسرے قیدیوں سے نہ ملنے دیا جائے، اب کوئی اور سیاسی قیدی آجائے تو اسے تمہارے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تو اور کچھ نہیں ہو سکتا۔
میں نے کہا: ”خدا کے لیے کسی اور کو گرفتار کرائیے، یہ اہلِ ملتان اس قدر مردہ دل کیوں ہو گئے ہیں؟ کوئی صاحبِ دل اس شہر میں ایسا نہیں ہے کہ جو ایک تقریر کر کے گرفتار ہو جائے۔ مولوی مودودی کے کسی چیلے کو ہی پکڑ لائیے، کوئی انسان تو ہو جس سے بات کر سکوں، مگر افسوس کہ نہ ڈپٹی صاحب میری بات مانے اور نہ ملتان شہر نے کوئی ایسا صاحبِ دل پیدا کیا۔”
1970ء میں حمید اختر نے آئی اے رحمان اور عبداللہ ملک کے ساتھ مل کر روزنامہ ’آزاد‘ جاری کیا جو بائیں بازو کے آزاد خیال گروپ کا ترجمان تھا۔ یہ اخبار بعد میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے مالی مشکلات کے بعد بند ہو گیا۔ حمید اختر نے کالم نگاری کے ساتھ ادبی مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔ خاکہ نگاری بھی کی اور یہ خاکے اُن ترقی پسند مصنّفین کے ہیں جن کی رفاقت حمید اختر کو نصیب ہوئی۔ ان کے شخصی خاکوں کی یہ کتاب ‘احوالِ دوستاں’ کے نام سے شایع ہوئی۔
حمید اختر نے افسانہ نگاری بھی کی، لیکن صحافتی مصروفیات اور تنظیمی سرگرمیوں کی وجہ سے اس طرف یکسوئی نہ ہوئی، انھوں نے چند فلمی اسکرپٹ بھی تحریر کیے۔ 2010ء میں انھیں تمغائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن ڈراموں کی معروف اداکارہ صبا حمید انہی کی بیٹی ہیں۔
ان کا انتقال 17 اکتوبر 2011ء کو ہوا۔ حمید اختر کینسر کے مرض کا شکار تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


