پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

حمید شاہد ہماری چند پختہ عادتوں کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں

اشتہار

حیرت انگیز

’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ خالصتاً کہانی سنانے کے فن سے جڑا ایک ناولٹ ہے۔ انیس ویں صدی کے بالکل آغاز میں لکھی گئی میر امن دہلوی کی داستان ’باغ و بہار‘ سے لے کر حمید شاہد کے اس ناولٹ تک اردو میں کہانی سنانے کے فن نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھ لیے ہیں۔ بہ ظاہر آپ کو دکھائی دے گا کہ مرزا اطہر بیگ نے کس شدت کے ساتھ روایت شکنی کی، اور ان سے بہت پہلے قرۃ العین حیدر کا نمائندہ ناول آگ کا دریا بھی روایت شکنی کی بڑی مثال رہا ہے۔ کئی اور ناول نگاروں کے ہاں اہم اور بالکل الگ تجربات ہوئے لیکن میں یہاں انور سجاد کے ’خوشیوں کا باغ‘ جیسے تجربات کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ بلکہ ایسے ناول جن میں کہانی ہمارے اور ہم کہانی کے ساتھ رہیں۔ جن میں تکنیک اور احساسات مل کر ایک واضح کہانی پیدا کریں۔ جیسے کہانی انسانی احساسات کو سمجھنے اور کھوجنے کے لیے لکھی جا رہی ہو۔ یہ عنصر مجھے ہم عصروں میں اقبال خورشید کے ناولٹ ’تکون کی چوتھی جہت‘ اور ان کے افسانوں میں بہت زیادہ دکھائی دیا۔

یہی نکتہ ہے کہ محمد حمید شاہد کے اس ناولٹ کو تجربہ نہیں کہنا چاہیے۔ ویسے بھی ہم جس تخلیق کو تجربے کے زمرے میں ڈال دیتے ہیں تو دراصل اسے ایک غیر سنجیدہ مشق سمجھ کر ایک طرف کر دیتے ہیں۔ اس ناولٹ کے ساتھ حمید شاہد نے یہ ممکن کر دکھایا ہے کہ احساسات کو موزوں ترین زبان کیسے دی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ایسا نہایت پختہ زبان و بیان جو احساسات کو کردار کر دیتے ہوں۔ دراصل ہمیں ناولوں میں غلط زبان پڑھنے کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ حمید شاہد کے نحوی لحاظ سے تھوڑے پیچیدہ لیکن بے حد خوب صورت جملے پڑھتے پڑھتے یہ ڈر جاگتا ہے کہ اب تو جملہ پٹری سے اتر جائے گا، لیکن نہیں۔ اس ناولٹ کو دو بار پڑھنے کے بعد میرے اندر جو خوشی پیدا ہوئی ہے، وہ اس احساس کی ہے کہ میں نے ایک ایسی چیز پڑھی ہے جو شاید ’’مکمل‘‘ ہے۔ مجھے پتا ہے مکمل کوئی شے نہیں ہوتی۔ لیکن ایک چیز اگر آپ کو احساسات سے بھر دے تو اندر کا یہ بھراؤ مکمل ہونے کا ایک تاثر پیدا کر دیتے ہیں۔

حمید شاہد جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی

ہم عادی ہیں کہ کہانی میں ایک واقعہ ہو اور اس واقعے کو مرکز بنا کر کہانی لکھی گئی ہو۔ لیکن ہمارا یہ کہانی کار ہمیں کچھ نیا دینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ قاری کے طور پر ہمارے اندر یہ خوب صورت احساس پیدا ہو کہ کس حسن کے ساتھ کہانی بیان ہو رہی ہے۔ وہ حسن جو انسانی احساسات اور یادداشتوں سے پیدا ہو۔ یادداشتوں اور بین المتونی حوالوں سے جڑ کر ہمارے اندر جو خوب صورتی پیدا ہوتی ہے اس کا خالق کوئی دوسرا نہیں، ہم خود ہوتے ہیں کیوں کہ یہ خوب صورتی ہر ایک میں الگ طرح کی پیدا ہوتی ہے۔ اس میں ہمارے روزمرہ کے تجربوں کا رس شامل ہوتا ہے۔

یہ بھی ٹھیک ہے کہ ہم عادی ہیں کہ ہمیں واقعے کی تفصیل سنائی جائے۔ اس تفصیل کو دل کش ادبی زبان سے آراستہ کیا جائے۔ لیکن عالمی سطح پر ادب انسانی احساسات اور جذبات کو مرکز بنا رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال نوبل انعام یافتہ ہان کانگ کے ناول ہیں۔ اگر سوال یہ ہو کہ، واقعے نہیں بلکہ کسی واقعے کے سائے میں جینے والے احساسات کو کس طرح بیان کیا جائے، تو، ’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ شاید اس کا ایک اچھا جواب ہے۔

اس ناولٹ کے ابتدائی صفحات میں امریکی افسانہ نگار ریمنڈ کاروَر کے ایک افسانے ’’کیتھیڈرل‘‘ کے کرداروں کے ساتھ بین المتونی تعلق بہت شان دار ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ کہانی سے باہر کی ایک اور کہانی کے حوالوں کی مدد سے، اس کے اپنے کردار کے داخلی احساسات کس طرح وسعت اور مختلف سمتوں میں جڑت اختیار کرتے ہیں۔

ہم عادی ہیں کہ کہانی کو اس طرح لکھا جائے کہ جذباتی سنسنی پیدا ہو۔ یہ بہت عام روش ہے۔ مصنف کو اس کے لیے جگہ جگہ اسٹیٹمنٹس دینے پڑتے ہیں، اخلاقی فیصلے جاری کرنے پڑتے ہیں۔ ناول نگار معلم بن جاتا ہے۔ آپ ’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ پڑھیں، بہن بھائی کی ایک نازک ترین کہانی ہے لیکن جذباتی سنسنی نہیں ہے۔ کوئی اخلاقی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن متن لطافت کے ساتھ اخلاقی بحران کا احساس جگا دیتا ہے۔

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ارتقا کے سفر میں انسان کا ذہن کب تک کہانی اور اسطورے کا خوگر بنا رہے گا، لیکن یہ ہے کہ، تا دیر، مصنفین ہمیں کہانیاں سناتے رہیں گے اور ہم پڑھتے رہیں گے۔ اس وقت اردو ادب میں حمید شاہد جس اسلوب میں کہانی سنا رہے ہیں، وہ ہم قارئین کے لیے تو ایک جاری دل کش تجربہ ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ یہ اسلوب اور یہ تکنیک ہمیں یہ احساس بھی دلاتے ہیں کہ اردو فکشن کا ایک اجتماعی شعور بنتے دکھائی دینا چاہیے۔ فکشن کو بے شک ہمیشہ ایک بڑی، ایک یادگار، ایک زندگی آموز کہانی درکار ہوتی ہے، لیکن احساس کی خاموش اور پرسوز گہرائیوں کو کھوجنے کے لیے فکشن کچھ اور کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یہ کچھ اور کیا ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے ’’جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ پڑھنا چاہیے۔

+ posts

رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔

اہم ترین

رفیع اللہ میاں
رفیع اللہ میاں
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔

مزید خبریں