The news is by your side.

Advertisement

فنانس بل 20 – 2019 منظوری کے لیے پیش کردیا گیا

اسلام آباد : قومی اسمبلی میں فنانس بل دوہزارانیس بیس منظوری کے لیے پیش کردیا گیا ، اپوزیشن ارکان نے نامنظور کے نعرے لگائے، نوید قمر نے کہا آج فنانس بل کی منظوری کا دن ہے آج وزیرستان کے دو ارکان کو موجود ہونا چاہیئے تھا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت ہوا ، وزیر مملکت حماد اظہر نے فنانس بل دوہزارانیس بیس منظوری کے لیے پیش کیا۔

اجلاس میں فنانس بل 2019 پر بحث اور ووٹنگ کا مرحلہ شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان نے نامنظور کے نعرے لگائے۔

نوید قمر نے اس موقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج فنانس بل کی منظوری کا دن ہے آج وزیرستان کے دو ارکان کو موجود ہونا چاہیئے تھا اپوزیشن کے بار بار مطالبے کے باوجود پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے گئے۔

پی پی رہنما نے کہا کہ یہ دیکھنا پڑے گا کہ پچھلے ایک سال میں آپ کی ٹیکسیشن میشنری کی کارکردگی کیا رہی ؟ اور آپ اب بھی ان پر انحصار کرنے جا رہے ہیں مارکیٹ میں انویسٹمنٹ ختم ہو چکی ہے اگر انویسٹمنٹ نہیں رہی تو ٹیکس وصولی میں بھی مشکلات کا سامنا ہو گا۔

نوید قمر نے  مزید کہا کہ آپ بزنس مین کے پیچھے ایف آئی اے اور نیب لگا دیں گے تو پھر آپ کیسے ٹیکس اکٹھا کر سکتے ہیں کمیشن بنانے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا، ایف آئی اے کے ذریعے پیسہ اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے تو اس سال جتنی ناکامی ہوئی اگلے سال اس سے چار گنا زیادہ ناکامی ہوگی۔

پیپلزپارٹی کے سینئیر رہنما کاکہناتھا کہ ایف آئی اے کے ذریعے پیسہ اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ ٹیکس ریونیو میں شارٹ فال کیوں آیا؟۔

انھوں نے مزید کہا کہ  تنخواہ دار طبقہ آپ کی کیپٹل مارکیٹ ہے، اگر ایف بی آر کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ائیر کنڈیشنر آفسز میں بیٹھ کے صرف ٹیکس کاٹنے ہیں تو پھر وہ اتنی تنخوائیں کیوں لے رہے ہیں، حکومت نے ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے ذریعے ہر بندے کے بجٹ کو بڑھا دیا ہے۔ آپ ایسا ماحول بنا رہے ہیں کہ لوگ سڑکوں پر آجائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں