site
stats
انٹرٹینمںٹ

پنجاب حکومت کی حمزہ عباسی کو حکومت مخالف پراپیگنڈے کے نام پر تنبیہ

لاہور: محکمہ پراسیکیوشن نے اداکار حمزہ علی عباسی کو فیس بک پر حکومت مخالف پراپیگنڈے پر وارننگ لیٹر جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے سوشل میڈیا پرحکومت منفی پراپیگنڈا کرنے پر پہلا وارننگ لیٹر جاری کردیا جس میں محکمہ پراسیکیوشن نے اداکار حمزہ علی عباسی کو سوشل میڈیا پر حکومت مخالف پراپییگنڈا کے نام پر وارننگ لیٹر جاری کردیا۔

لیٹر میں حمزہ علی عباسی کو غلط پوسٹ لگانے پر تین اگست 2016ء کو معافی مانگنے کا کہا گیا ہے، پنجاب حکومت کے مطابق حمزہ علی عباسی نے فیس بک پر مئی، جون اور جولائی میں اپنی پوسٹ پر پنجاب میں 900 بچے اغوا ہونے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق ان تین ماہ میں اس سے تین گناہ کم بچے اغوا ہوئے، حمزہ علی عباسی نے غلط اعدادو شمار دے کر عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا۔


سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ کا حکم جاری


خط میں کہا گیا ہے کہ اداکار حمزہ علی عباسی غلط پوسٹ لگانے پر فوری طور پر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

اداکار حمزہ علی عباسی کا اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کا یہ اقدام شرم ناک ہے ،حکومت کو کیس کرنا ہے تو اس اخبار پر کریں جس میں خبر چھپی تھی، میں اس اخبار کا حوالہ بھی دیا تھا، یہ اقدام صرف آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے۔

Hamza-Abbasi-Post

پنجاب حکومت نے دوسرا وارننگ لیٹر شہری حسن فیروز کے خلاف جاری کیا، حسن فیروز نے فیس بک پر پوسٹ لگائی کہ بچوں کو اغوا کرکے ان کے جسم سے اعضا چوری کیے جا رہے ہیں جب کہ خط کے مطابق پولیس ریکارڈ میں ایسا کوئی جرم سامنے نہیں آیا، ملزم نے غلط پوسٹ کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا۔

گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پولیس کو سائبر کرائم کے تحت سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کے خلاف مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔

دریں اثنا حمزہ عباسی نے وسیم بادامی کے پروگرام الیونتھ آور میں شرکت کی اور پنجاب حکومت سےمعافی مانگنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں معافی مانگ لوں، آخر میں نے کیا کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top