لاہور: سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کا یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کردیا، حمزہ شہباز دوبارہ عبوری وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی اور ق لیگ کی درخواست پر چیف جسٹس سپریم کورٹ ،جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب کے وکیل کی عدم تیاری پر سپریم کورٹ نے وزیر اعلی ٰحمزہ شہباز کا یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کیا۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ آج سے حمزہ شہباز ایک بار پھرعبوری وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حمزہ شہباز کیس کے فیصلے تک ایک ٹرسٹی کے طور پر کام کرینگے، کیس میں عرفان قادر نےتفصیلی جواب جمع کرانا ہے، آج کی سماعت سے اندازہ ہوا کہ عرفان قادرکی تیاری نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت بھی اپنا تفصیلی و تحریری جواب جمع کرائیں، ہم صوبے کو بغیر گورننس کے نہیں چھوڑ سکتے۔
وکیل ڈپٹی اسپیکر نے عدالت کو بتایا کہ آپ کےآرڈر ہم نےدیکھے ہیں اس میں بہت سے آپشن ہیں،ہمیں تھورا وقت دیا جائے، میں آپکے سوال کے جواب ضرور دوں گا، دوست مزاری کےوکیل کی جانب سے عدالت سےوقت دینے کی استدعا کی گئی۔
عدالت نے ڈپٹی اسپیکر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہیں آپ بہت قابل وکیل ہیں، آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے کس طرح دس ووٹ نکالے ہیں؟عرفان قادر نے استفسار کیا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ عدالتی فیصلے میں پارلیمانی لیڈر کاکردار واضح ہے، پارلیمانی لیڈرکی ہدایات پرعمل نہ کرنے والے کا ووٹ شمار نہ کرنے کا فیصلہ ہے،اس فیصلے میں کیا ابہام ہے؟ جسٹس اعجازالاحسن کے ریمارکس پرکمرہ عدالت تالیوں سے گونجا۔
بعد ازاں ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کیخلاف سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکرکو ریکارڈسمیت پیرکو اسلام آبادطلب کرلیا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ڈپٹی اسپیکرنے جو رولنگ دی ہےاس کی بنیاد بھی پیش کرے، ہم صوبےکوابہام کےساتھ نہیں چھوڑسکتے۔
صبح ہونے والے سماعت کے دوبارہ آغاز پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکرکہاں ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےبتایا کہ وہ بھی آ رہے ہیں۔
اہم ترین کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت وکلا اور سیاسی رہنماؤں سے بھر گیا جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلےجائیں، ہم کوشش کرتے ہیں ،باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں۔
کمرہ عدالت میں داخلے کی کوشش کےدوران دھکم پیل ہوئی جس کے باعث عدالتی دروازے کے شیشے ٹوٹ گئے۔
وقفے سے قبل عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب دوست محمد مزاری کو طلب کیا تھا، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ہمارے فیصلے میں ایسا کچھ نہیں جو ڈپٹی اسپیکرنے کہا، ہم ہمیشہ سیکھتے ہیں، ڈپٹی اسپیکربتادیں کس پیرا میں وہ لکھا ہے؟ جو انہوں نے حوالہ دیا، ڈپٹی سپیکر آکر ہمیں گائیڈ کریں کہ کس پیرا گراف میں یہ کہاں ہے؟
واضح رہے کہ گذشتہ روز پنجاب اسمبلی سے 179 ووٹ حاصل کرنے کے بعد حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے آج ہی اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔


