The news is by your side.

Advertisement

حمزہ شہباز نیب پر برس پڑے، میری بہنوں اور بیمار والدہ کو بھی نوٹس بھیج دیا

لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز شریف نیب پر برس پڑے، کہا کل تین گھنٹے نیب دفتر میں بیٹھ کر آیا ہوں، اب پھر بلایا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’کل تین گھنٹے نیب میں بیٹھ کر آیا ہوں، اب پھر بلایا جا رہا ہے، میری بہنوں اور بیمار والدہ کو بھی نوٹس بھیج دیا گیا، کیا مہذب معاشرے میں ماں بیٹیوں کو نوٹس بھیجے جاتے ہیں۔‘

حمزہ شہباز نے کہا ’نیب نے عدالت میں کہا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری اتنی ضروری نہیں، وہ تعاون کر رہے ہیں۔‘

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ایک کال اپ نوٹس کی سیاہی خشک نہیں ہوئی اور اب ان کی بہنوں رابعہ اور جویریہ کو بھی نوٹس بھیج دیا گیا ہے، شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں بلایا گیا اور گرفتار آشیانہ اسکینڈل میں کیا گیا، کہتے تھے شہباز شریف کرپٹ ہیں، کہاں گئیں وہ 56 کمپنیاں، ان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوا، اثاثوں سے زائد آمدن کا کیس پرانا ہے، اچانک اتنی تیزی کیوں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:  اثاثہ جات کیس : نیب نے شہباز شریف کے پورے خاندان کو بیان کیلئے طلب کر لیا

حمزہ شہباز نے کہا ’ڈی جی نیب لاہور نے کہا آپ نے ضمانت کی درخواست کیوں دی، ہم تو آپ کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے، آپ حکومت سیٹلمنٹ کرلیں، آپ کو بار بار بلانا اچھا نہیں لگتا، حکومت سے ڈیل کیوں نہیں کر لیتے۔‘

انھوں نے کہا کہ مجھ پر85 ارب کی کرپشن کا الزام لگایا گیا، میں نےایک ایک پائی کا حساب دیا، سب کچھ ڈکلیئر کیا، نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا ہے، عدالتوں سے گزارش ہے کہ مجھے اور نیب کو ایک ساتھ بلائیں، ہمارے ساتھ بد سلوکی ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ نیب اہل کار نوٹس وصولی کے لیے شہباز شریف کی بیٹی کے گھر گئے، جس پر نون لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب نے غلط بیانی کرتے ہوئے میڈیا کو گمراہ کیا، انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کی بیٹی کے گھر پر چھاپا مارا گیا اور پولیس نے محاصرہ کر لیا ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس نکلی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں