The news is by your side.

Advertisement

رمضان شوگر ملز کیس: حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 21 اگست تک توسیع

لاہور : احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 21 اگست تک توسیع کر دی اور شہبازشریف کی حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں رمضان شوگر ملز کیس سماعت ہوئی، جج نعیم ارشد نے کیس کی سماعت کی، حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوئے تاہم شہباز شریف آج بھی عدالت نہ آئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ چند روز میں مقدمے کا سپلیمنٹری چالان جمع کروا دیا جائے گا ، جس پر شہباز شریف کے وکیل نے حاضری معافی کی درخواست جمع کروائی، جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ کشمیر ایشو کی وجہ سے پارلیمنٹ کا اجلاس تھا اور وہاں موحود ہونا شہباز شریف کی آئینی ذمہ داری تھی لہذا عدالت آج کے لیے حاضری معافی کی درخواست منظور کر ے۔

عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 21 اگست تک توسیع کر دی اور نیب حکام کو آئندہ سماعت پرسپلیمنٹری چالان پیش کرنےکاحکم دیا۔

حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا گیا تو مریم نواز پہلے سے ہی وہاں موجود تھیں، حمزہ شہباز نے مریم کا کندھا تھپتھپا کر انھیں تسلی دی، سماعت کے دوران مریم نواز اور ان کے بیٹے کے ساتھ حمزہ شہباز مشاورت میں مصروف رہے۔

حمزہ کی پیشی پر ن لیگی کارکنوں کےشور شرابے پر فاضل جج نےشدید برہمی کا اظہار کیا، حمزہ شہباز کو واپس لے جانے کے موقع پربھی لیگی کارکن پولیس سے دھکم پیل کرنے سے باز نہ آئے۔

خیال رہے رمضان شوگر مل کے لیے نالہ بنانے پر کروڑوں روپے قومی خزانے سے خرچ کرنے کے حوالے سے ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 11 جنوری 2018 کو رمضان شوگر ملز کیس کا ریفرنس مکمل کرتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو ملزم نامزد کیا تھا، بعد ازاں چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

نیب ریفرنس کے مطابق ملزمان نے رمضان شوگر ملز کے لیے 10 کلو میٹر طویل نالہ بنوایا، شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اپنے خاندان کی مل کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوامی مفاد کا نام لیا۔

قومی احتساب بیورو کے مطابق شہباز شریف کے اس فیصلے سے سرکاری خزانے کو 213 ملین کا نقصان ہوا، سرکاری خزانے کا نقصان شہباز اور حمزہ شہباز کی ملی بھگت سے ہوا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں