The news is by your side.

Advertisement

کم عمر بچی سے زیادتی ثابت، مجرم کو سزائے موت کا حکم

ہنگو: کم عمر بچی سے زیادتی کرنے والے مجرم کو عدالت نے موت کا پروانہ تھمادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہنگو کی مقامی عدالت نے کم عمر بچی سے جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم سنادیا ہے، مجرم اقبال نے تین سال قبل ہنگو کے علاقے شاہووام میں کم عمر بچی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

عدالت نے تمام تر شواہد اور ثبوت اور ڈی این اے میچ ہوجانے پر مجرم اسماعیل کو سزائے موت کا حکم سنایا اور سات لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر مجرم کو مزید چھ ماہ قید وبند میں گزارنے کا حکم دیا۔

ایس پی انوسٹی گیشن ارشد محمود کے مطابق تین سال قبل متاثرہ بچی کی والدہ مدیحہ بی بی زوجہ محمد اقبال کی مدعیت میں اسماعیل ولدمحمدامین کوزیردفعہ376/53چائلڈپروٹیکشن ایکٹ میں ملزم نامزد کیاگیاتھا۔

عدالتی فیصلہ کی روشنی میں ملزم محمداسماعیل ولدمحمدامین کوزیردفعہ 376میں سزائے موت جبکہ جرم زیردفعہ53CPAکیتحت7سال قیداوردس لاکھ روپے جرمانے کاحکم صادرفرمایاگیا۔

واقعہ کی تفتیش انوسٹی گیشن پولیس نے احسن انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچائی اور تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متاثرہ بچی کوانصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار اداکیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سوات: کزن کے ہاتھوں کمسن بچہ زیادتی کا شکار

واضح رہے کہ رواں سال ستائیس جنوری کو صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے بچوں سے زیادتی کے قانون میں ترمیم کا بل تیارکیا تھا، بل میں تجویز کی گئی تھی کہ بچوں سے زیادتی کے ملزم کی سزا موت یا عمر قید رکھی جائے۔

بل میں یہ بھی تجویز سامنے آئی ہے کہ عمرقید پانے والے قیدیوں کو پیرول پر رہا نہیں کیا جائے گا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ترمیمی مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے مرتکب افراد کو حکومت سزا میں معافی نہیں دے گی۔ بچوں کی غیراخلاقی ویڈیو بنانے پر 14 سال قید با مشقت اور 5 لاکھ جرمانے کی بھی تجویز ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں