بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہانیہ کو کتنی گولیاں لگیں؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہولناک انکشافات

اشتہار

حیرت انگیز

چکوال: سی سی ڈی کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی، جس میں جسم پر لگنے والی گولیوں اور موت کی وجہ بتائی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی، جس میں فائرنگ کے نتیجے میں بچی کے جسم ک اور موت کی وجوہات کی ہولناک تفصیلات سامنے آئی۔

میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ معصوم ہانیہ عدیل کے جسم پر گولیوں اور گہرے زخموں کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے ہیں۔

ڈاکٹرز نے اپنی حتمی رائے میں واضح کیا ہے کہ بچی کے جسم پر موجود تمام زخم ‘اینٹی مارٹم’ (Antemortem) ہیں، یعنی یہ تمام گولیاں اور زخم موت واقع ہونے سے پہلے کے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولیوں کے گہرے زخموں کے باعث جسم سے شدید خون بہہ جانے (Hypovolemic Shock) کی وجہ سے بچی کی جان گئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہنا تھا کہ شدید صدمے اور غیر معمولی خون بہنے کے باعث معصوم بچی کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی اور پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

رپورٹ کے مطابق زخم اتنے شدید اور گہرے تھے کہ وہ عام حالات میں بھی فوری موت کا سبب بنتے ہیں، گولی لگنے اور موت واقع ہونے کے درمیان کا وقت ‘فوری’ رہا، جبکہ موت اور پوسٹ مارٹم کے عمل کے درمیان 6 سے 8 گھنٹے کا وقت گزرا۔

پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا کہ فائرنگ کے نتیجے میں بچی کی دائیں ران کی ہڈی (Right Femur Fracture) بری طرح ٹوٹ گئی جبکہ بچی کا دایاں پھیپھڑا (Right Lung) شدید متاثر ہوا اور چھاتی کے اندر خون جمع ہو گیا۔

فائرنگ کے باعث بچی کا جگر (Liver)، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہوئیں جبکہ دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر گولیوں کے داخل (Entry) اور خارج (Exit) ہونے کے گہرے اور واضح زخم موجود ہیں۔

اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز نے پوسٹ مارٹم کے دوران بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا برآمد کر کے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ بچی کے خون آلود کپڑے، ایکس ریز اور دیگر تمام متعلقہ میڈیکو لیگل شواہد کو مکمل طور پر سیل کر کے باقاعدہ طور پر پولیس کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ کیس کی شفاف تفتیش کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اہم ترین

مزید خبریں