میڈرڈ: ہنٹا وائرس (Hantavirus) کی مہلک وبائی لہر کا شکار ہونے والا ایک سیاحتی بحری جہاز اسپین کے جزیرے ٹینیرائف کے ساحل پر پہنچ گیا ہے۔ جہاز پر سوار مسافروں اور عملے کو سخت طبی نگرانی میں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیاحتی بحری جہاز گرانادیلا بندرگاہ کے قریبی سمندری حدود میں پہنچا، جہاں ہسپانوی حکام نے ایک وسیع تر طبی اور انخلا کا آپریشن شروع کر دیا۔
طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر سوار کم از کم چھ مسافروں میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید دو مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس وبائی حملے کے نتیجے میں اب تک تین ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں سے دو اموات دورانِ سفر بحری جہاز پر ہی ہوئیں۔
سیاحتی جہاز پر 23 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان سوار ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود دیگر تمام مسافر فی الحال وائرس کی علامات سے محفوظ ہیں۔ تاہم، حفاظتی اقدامات کے تحت جہاز کو براہِ راست بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اسے ساحل سے دور سمندر ہی میں روکا گیا ہے۔
اسرائیل میں ہینٹا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق
مسافروں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے 5، 5 کے گروپس میں ساحل پر لایا جائے گا، جہاں ابتدائی طبی معائنے اور وبائی امراض سے متعلق معلوماتی فارم پُر کروانے کے بعد انہیں بسوں کے ذریعے 6 میل کی دوری پر واقع ٹینیرائف ایئرپورٹ منتقل کیا جائے گا جہاں سے وہ خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے ممالک روانہ ہوں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


