4 سال میں خواتین کو ہراساں کرنے کے 220 واقعات: سینیٹ میں رپورٹ پیش -
The news is by your side.

Advertisement

4 سال میں خواتین کو ہراساں کرنے کے 220 واقعات: سینیٹ میں رپورٹ پیش

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی محتسب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 4 سال میں ہراساں کرنے کے 220 واقعات رپورٹ ہوئے۔ 50 کی متعلقہ محکموں کی جانب سے انکوائریز کروا کر وفاقی محتسب کو دی گئیں۔

تفصلات کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ وزیر برائے آبی وسائل نے سینیٹ میں اپنا تحریری جواب جمع کروایا۔

وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے متعدد خلاف ورزیوں کی کوشش کی گئی، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کو باضابطہ روک دیا گیا۔ کشن گنگا اور رتل پلانٹ منصوبوں کے نقشوں میں خلاف ورزی کی گئی۔

وزیر کا کہنا تھا کہ مستقل سندھ طاس کمیشن کی سطح پر مذاکرات ناکام ہوئے۔ پاکستان معاملہ حل کروانے کے لیے عالمی عدالت کے پاس لے گیا۔ ثالثی عدالت نے کشن گنگا سے متعلق حتمی ایوارڈ کا اعلان 2013 میں کیا۔

تحریری جواب میں مزید کہا گیا کہ میام، لور کلنائی، اوریکل رول پر اعتراض کمیشن کی سطح پر حل کیے جا رہے ہیں۔ معاملات کمیشن کے اجلاس میں زیر بحث لائے جائیں گے۔

دوسری جانب خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق وفاقی محتسب کی 4 سال کی تفصیلی رپورٹ بھی سینیٹ اجلاس میں پیش کی گئی۔

وفاقی محتسب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 4 سال میں ہراساں کرنے کے 220 واقعات رپورٹ ہوئے، 50 کی متعلقہ محکموں کی جانب سے انکوائریز کروا کر وفاقی محتسب کو دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث 49 افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ 2 واقعات میں ملوث افراد ملازمت سے فارغ کیے گئے، 7 واقعات میں ملوث ملازمین کو چھٹیوں پر بھیجا گیا جبکہ 15 واقعات میں ملوث افراد کی ترقیاں اور تنخواہوں میں اضافہ روکا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں