The news is by your side.

Advertisement

حریم فاروق کو دادا نے تھپڑ کیوں مارا؟ اداکارہ نے بتادیا

کراچی: شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حریم فاروق نے بچپن میں اپنی گمشدگی کا واقعہ سنادیا۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام ’شان سحور‘ میں اداکارہ حریم فاروق نے شرکت کی اور میزبان ندا یاسر کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

حریم فاروق نے بچپن میں گم ہونے کا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ’میں آٹھ سال کی تھی باہر گئی اور ڈرائیور سے کہا کہ مجھے پھوپھو کے گھر چھوڑ کر آجائیں، انہوں نے کھانا کھانے جانا تھا تو مجھے کہا کہ ابھی نہیں چھوڑ کر آرہا۔‘

اداکارہ نے بتایا کہ ’میں ضد پر آگئی اور کہا کہ اگر آپ نہیں چھوڑنے جائیں گے تو میں خود چلی جاؤں گی، انہوں نے مسکرا کر کہا کہ اچھا چلی جائیں۔‘

حریم نے بتایا کہ ’ڈرائیور کے کہنے پر میں چلی گئی مجھے راستہ معلوم تھا پھوپھو کے گھر کا راستہ آدھے گھنٹے کا ہوگا۔‘

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں اس ٹائم پر کوئی بچہ اکیلا گھوم رہا ہوتا تھا تو لوگ پوچھ لیتے تھے کہاں جارہے ہو، مجھے بھی ایک انکل ملے انہوں نے پوچھا کہ بیٹا کہاں جارہی ہوں اس پر میں نے کہا کہ پھوپھو کے گھر جارہی ہوں۔’

حریم نے بتایا کہ ان انکل نے پوچھا کہ بیٹا آپ کتنے سال کی ہو؟ میں نے کہا کہ آٹھ سال کی ہوں، انکل نے پوچھا کہ آپ کونسی کلاس میں ہو میں نے یہ کہہ دیا کہ میٹرک کررہی ہوں۔‘

اداکارہ نے بتایا کہ میں انکل کو یہ کہہ کر آگے بڑھ گئی اور پھوپھو کے گھر قریب پہنچ گئی تھی اس وقت اندھیرا ہونے لگا تھا کہ دو لڑکے میرے پاس آئے، انہوں نے بھی یہی سوال کیا کہ کہاں جارہی ہو میں نے کہا کہ پھوپھو کے گھر جارہی ہوں۔‘

حریم فاروق نے کہا کہ ان لڑکوں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کو پتا ہے کہ پھوپھو کا گھر کہاں ہے اس پر میں نے انہیں کہا کہ یہیں بس تھوڑا سا دور ہے، اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں پتا ہے کہ آپ کہاں ہو، میں نے کہا کہ نہیں گھر میں تو نہیں معلوم ہے۔

اداکارہ نے بتایا کہ ان لڑکوں نے کہا کہ ہم آپ کو گھر لے جاتے ہیں، امی ابو کو بتا کر آپ کو پھوپھو کے گھر چھوڑ آئیں گے۔

حریم کا کہنا تھا کہ جب وہ گھر لے کر آئے تو امی اور ابو تھانے میں تھے، دادا اور دادی پریشان بیٹھے ہوئے تھے کہ کہاں گئی پھر دادا نے ان کا شکریہ ادا کیا اور مجھے زور دار تھپڑ مارا، دادا نے کہا کہ آئندہ بغیر بتائے کہیں نہیں جانا پھر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے آئندہ نہیں جاؤں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں