ہارون آباد: ایک سال سے لاپتہ خاتون کی لاش گھر کے صحن سے برآمد کرلی گئی۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے بتایا کہ گھر میں پانی کا پائپ ڈالنے کیلئے کھدائی کے دوران لاش ملی، خاتون کے لاپتہ ہونے پر خاوند نے فرار ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔
ہارون آباد میں تھانہ صدر پولیس نے لاش تحویل میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے جبکہ پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی گلشن معمار میں کم عمر بہن بھائی کی پانی کے ٹینک سے لاشیں برآمد کی گئی تھیں واقعہ حادثہ ہے یا قتل، اس حوالے تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اہلخانہ 12 سالہ آصف اور 10 سالہ عائشہ کو گھر پر اکیلے چھوڑ کر باہر گئے، واپس لوٹے تو دونوں بچوں کی لاشیں پانی کے ٹینک سے ملیں تاہم لاشوں کوقانونی کارروائی کیلیے عباسی شہیداسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کاکہناہے کہ کرائم سین یونٹ کی مدد سے واقعے کی تحقیقات کی جاری ہے، بچوں کی موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
والد نے انکشاف کیا کہ ٹینک میں زیادہ پانی نہیں تھاکہ بچے ڈوب جائیں، ٹینک میں صرف ایک فٹ پانی تھا،میں ڈیوٹی پر تھا اور گھر والے باہر تھے، گھر واپس آئے تو بچے پانی کے ٹینک کے اندر سے ملے۔
فوڈ ڈلیوری رائیڈر کے ورثاء نے ملزم کو کیوں معاف کیا؟ معاملہ آخر ہے کیا؟
والد کا کہنا تھا کہ متوفی بیٹے کے گلے پر رسی تھی، کسے الزام دیں، کسی سے دشمنی نہیں ہے، بچے اسکول میں پڑھتے تھے، پوسٹ مارٹم نہیں کرانا چاہتا لیکن پولیس واقعے کی تحقیقات کرے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


