لکھنؤ (17 مارچ 2026): آپ یہ سوچ کر حیران ہو رہے ہوں گے کہ ہیری پوٹر فلم سیریز کا اسٹیم انجن بھارتی ریاست اترپردیش کے ایک ریلوے اسٹیشن پر کیسے پہنچا؟
دراصل، لکھنؤ جنکشن ریلوے اسٹیشن، جسے عام طور پر ’’چھوٹی لائن اسٹیشن‘‘ کہا جاتا ہے، کو تعمیر ہوئے سو سال پورے ہو گئے ہیں، 1926 میں تعمیر ہونے والے اس ریلوے اسٹیشن کا رواں برس 2026 میں صد سالہ جشن منایا جا رہا ہے۔
تاہم لوگ اس وقت حیران رہ گئے جب تاریخی ورثے کی نمائش کے دوران اسٹیشن پر ہیری پوٹر فلم سیریز کے ’’ہاگ ورٹس ایکسپریس‘‘ کا اسٹیم انجن کا ایک ماڈل بھی نصب کیا گیا۔ جس سے یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا لکھنؤ جنکشن پر بھی ہیری پوٹر فلم کی شوٹنگ ہوئی تھی؟
ہیری پوٹر فلموں میں ہاگ وارٹس ایکسپریس کی ٹرین کے مناظر زیادہ تر برطانیہ کے اسٹیشنوں پر فلمائے گئے ہیں، جیسے کہ کنگز کراس لندن یا گلوچسٹر شائر کے کچھ اسٹیشن۔ لکھنؤ جنکشن یا بھارت کے کسی اسٹیشن پر اصل فلم کی شوٹنگ نہیں ہوئی۔ یعنی اسٹیشن کو صرف فلمی تھیم اور تعلیم اور لوگوں کی دل چسپی کے لیے استعمال کیا گیا، اصل فلم کی لوکیشن کے طور پر نہیں۔
آسکرز پر ’ون بیٹل آفٹر این ادر‘ کی دھوم مچ گئی
نمائش میں یہ بھی دکھایا گیا کہ لکھنؤ ڈویژن کے ریلوے اسٹیشنز مختلف انڈین فلموں اور سیریز میں شوٹنگ کے لیے استعمال ہوئے ہیں، لیکن اس کا ہیری پوٹر سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں، اسٹیشن میں موجود ماڈل اور نمائش صرف تھیم اور تعلیم کے لیے ہیں۔
ریلوے کے تعلقات عامہ کے افسر مہیش گپتا کا کہنا تھا کہ یہ ماڈل ہیری پوٹر سیریز کی مشہور اسٹیم ٹرین کی طرز پر بنایا گیا ہے، جو ہر سال یکم ستمبر کو لندن کے کنگز کراس اسٹیشن سے طلبہ کو لے کر روانہ ہوتی ہے۔ جب کہ شمال مشرقی ریلوے کے لکھنؤ ڈویژن کے ڈویژنل ریلوے منیجر نے بتایا کہ اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کس طرح ریلوے نیٹ ورک اکثر فلمی کہانیوں کا حصہ بنتا ہے۔
انتظامیہ نے ایک خصوصی ڈسپلے بھی تیار کیا جس میں ان فلموں کو دکھایا گیا ہے جن کی شوٹنگ اسی ڈویژن کے ریلوے مقامات پر ہوئی، ہر فلم کے ساتھ اس کا سال، اداکاروں کے نام، شوٹنگ کی جگہ اور یہاں تک کہ فلم میں وہ مخصوص وقت بھی درج کیا گیا، جہاں ریلوے اسٹیشن کا منظر آتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



