بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر روہتک میں ایک افسوسناک واقعہ رونما ہوا، خواتین کو چھیڑنے سے منع کرنے پر بین الاقوامی ایتھلیٹ روہت کو قتل کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہریانہ کے شہر روہتک میں ایک بین الاقوامی پیرا ویٹ لفٹنگ ایتھلیٹ روہت کو شادی کی تقریب میں مبینہ جنسی ہراسانی پر احتجاج کرنے پر جمعے کی رات بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایتھلیٹ روہت پر تقریب میں آئے درجن سے زائد مہمانوں نے ہتھیاروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا، زخمی ایتھلیٹ کو ابتدائی طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ دوران علاج چل بسا۔
افسوسناک واقعہ بھوانی گاؤں، روہتک میں پیش آیا، جہاں روہت اپنی دوست جتن کے رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لئے پہنچا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریب کے دوران ایک شخص راہول نے نشے کی حالت میں خواتین پر قابلِ اعتراض جملے کسے، روہت نے انہیں منع کیا، جس پر ابتدائی جھگڑا ہوا، لیکن مہمانوں نے معاملہ رفع دفع کروادیا۔
سگے بھائی کے قاتل کی 36 سال بعد فلمی انداز میں گرفتاری
راہول اور اس کے ساتھی واپسی کے دوران روہت کی گاڑی روک کر ڈنڈوں اور لوہے کی راڈوں سے اس پر حملہ آور ہوگئے، حملے کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور روہت کو ابتدائی طور پر مقامی اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے واقعے کے بعد مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔


