کراچی : عالمی شہرت یافتہ پاپ سنگر حسن جہانگیر کا پینٹنگ سے گلوکاری تک کا سفر کیسے ہوا، یہ بات انہوں نے اپنی زبانی اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
شان رمضان میں انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے قصے سنائے کہ کس طرح جدوجہد، شوق اور لگن کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے اسکول ٹائم سے ہی پینٹنگ بنانے کا شوق تھا گھر کی دیواروں اور دروازوں پر کوئلے اور چاک کی مدد سے مختلف تصاویر بنایا کرتا تھا۔ بعد ازاں میں نے باقاعدہ سیکھ کر اسے ذریعہ آمدنی بھی بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پینٹنگ کے دوران میں گنگنایا بھی کرتا تھا اسی شوق کو پورا کرنے کیلیے میں شام کے وقت ایک میوزک اکیڈمی بھی جایا کرتا تھا جہاں چھوٹے موٹے کام کیا کرتا تھا، وہاں کے فنکار مجھے اپنے ساتھ پروگراموں میں لے جایا کرتے تھے۔ اسی طرح ایک دن مہندی کے پروگرام میں گانے کا موقع مل گیا جہاں مجھے بہت پذیرائی ملی۔
حسن جیانگیر نے بتایا کہ اس دن سے میں مشہور ہوتا چلا گیا اور لوگ مجھے اپنے فنکشنز میں بلانے لگے، بڑی بڑی ریکارڈنگ کمپنیوں سے بھی آفرز آنے لگیں اور لوگوں نے بھی مجھے بہت محبت دی۔
یاد رہے کہ معروف پاپ سنگر حسن جہانگیر کے گانے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔ جہانگیر کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے گانے ’’ہوا ہوا‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


