مفرورسابق بنگلا دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے رواں سال وطن واپسی کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنا چاہتی ہوں اور واپسی کی تاریخ کا اعلان وقت آنے پر کروں گی۔
شیخ حسینہ نے نظربندی یا قید کے امکان کے باوجود کہا کہ خوف ان کے فرض کا تعین نہیں کر سکتا۔ ان کے ریمارکس مسلسل قانونی چیلنجوں، مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال اور بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے درمیان سیاسی واپسی کی کوشش کا اشارہ ہیں۔
اس سے قبل بھارتی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شیخ حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ وہ اقتدار کی ہوس کے لیے نہیں بلکہ بنگلا دیش کے عوام کی خدمت اور بانیِ بنگلا دیش شیخ مجیب الرحمٰن کے ‘سنہری بنگلا دیش’ کے خواب کی تکمیل کے لیے سیاست کرتی ہیں۔
اپنے خلاف بنگلا دیشی عدالت کی جانب سے سنانے گئے سزائے موت کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے اسے انصاف کے منافی، غیر آئینی، غیر قانونی اور سراسر سیاسی انتقام پر مبنی کارروائی قرار دیا۔
انہوں نے موجودہ عبوری نظام پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو ان کی جماعت ‘عوامی لیگ’ کو قیادت سے محروم کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد اپنی حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے پرتشدد اور شدید احتجاج کے بعد عہدے سے مستعفی ہو کر اگست 2024 میں ملک سے فرار ہو کر بھارت پہنچ گئی تھیں اور وہ تب سے اب تک وہیں پناہ گزین ہیں۔
اب شیخ حسینہ واجد نے طویل عرصے بعد ملکی سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونے اور وطن واپسی کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد بنگلا دیش کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔


