The news is by your side.

Advertisement

انڈیا: مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث 16 پولیس اہل کاروں کو 30 سال بعد سزا

نئی دہلی: بھارتی عدالتِ عالیہ نے ہاشم پورہ فسادات میں 42 مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کرنے پر 16 پولیس اہل کاروں کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق 1987 میں بھارتی ریاست اُتر پردیش میں گاؤں ہاشم پورہ فسادات میں پولیس اہل کاروں نے جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے مسلمانوں کے قتل کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا

جسٹس مرلی دھر اور جسٹس ونود گوئل پر مشتمل عدالتی بینچ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے 16 پولیس اہل کاروں کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

عدالت نے نہتے اور بے بس لوگوں کو نشانہ بنانے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا۔ مارچ 2015 میں ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو ثبوتوں کے ناکافی ہونے کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مذکورہ پولیس اہل کار جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور جن میں سے ایک مر چکا ہے، فسادات میں مسلمانوں کے قتل اور اغوا میں ملوث نکلے، ملزمان مجرمانہ سازش اور ثبوتوں کو مٹانے کے بھی مجرم ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:  انڈیا:  بندر کو بس کیوں چلانے دی؟ ڈرائیور معطل


خیال رہے کہ اتر پردیش، میروت کے گاؤں ہاشم پورہ میں مئی 1987 میں ہندو مسلم فسادات کے دوران پولیس فورس نے تقریباً پچاس مسلمانوں کو اغوا کر لیا تھا جن میں سے 42 کو بے دردی سے مار دیا گیا تھا۔

بھارتی عدالت سے مسلمانوں کے قتل عام پر ان کے لواحقین کو انصاف میں 30 سال کا عرصہ لگا، خیال رہے کہ ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور فسادات میں زندہ بچ جانے والے ایک مسلمان نے اپیل دائر کر دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں