ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

حسرتؔ: اردو غزل میں زندگی کی نئی لہر

اشتہار

حیرت انگیز

یہ تذکرہ ہے حسرت موہانی کا جو شاعر بھی تھے، ناقد بھی اور تذکرہ نگار بھی۔ یہی نہیں بلکہ حسرت موہانی تحریکِ آزادی کے سرگرم رکن بھی تھے جن کی سیاسی زندگی کو بیان کرنے کے لیے بھی دفتر درکار ہے۔

اردو کے ممتاز ترقی پسند نقاد، اور افسانہ نگار مجنوں گورکھپوری کے ایک مضمون سے یہ اقتباس باذوق قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

حسرتؔ کی شاعری جس وقت شروع ہوئی اُس وقت امیرؔ اور داغؔ ہر طرف چھائے ہوئے تھے، گوشہ گوشہ میں انہیں کی تقلید ہو رہی تھی، اردو غزل میں کوئی نیا امکان نظر نہیں آ رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری غزل اپنے تمام بہترین امکانات بروئے کار لا چکی ہے اور اب اس میں صرف انحطاط کا امکان باقی ہے۔

اسی اثناء میں حسرتؔ کی آواز کان میں پڑتی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اردو غزل میں کہیں سے زندگی کی نئی لہر آ گئی ہے، جس نے اس کے اندر نئی توانائیاں پیدا کر دی ہیں۔
حسرتؔ کے تغزل کو متعین کرنا اور اس کو کوئی ایک نام دینا بہت دشوار ہے۔ اس لئے کہ وہ ’’بسیار شیوہ ہستِ بتاں را کہ نام نیست‘‘ کے عنوان کی چیز ہے۔

نیازؔ صاحب کا یہ کہنا اس لحاظ سے بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ’’ہندوستان میں اس وقت حسرتؔ ہی وہ شاعر ہے جس کے کلام کی داد سوائے خاموشی اور کسی طرح نہیں دی جا سکتی۔‘‘ بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ حسرتؔ جدید اردو غزل کے امام ہیں اور نئے دور کے نئے رجحانات کا صحیح شعور رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے نفس شعری کی تربیت ان انبیائے غزل کے مطالعہ سے کی جن کی بدولت آج اردو غزل، اردو غزل ہوئی ہے۔

حسرتؔ کے کلام میں ان کی اپنی فطری اپج کے ساتھ قدماء کے بہترین عناصر نے مل کر ایک عجیب مکمل اور پختہ آہنگ پیدا کر دیا ہے جس کا دوبارہ تجربہ نہیں کیا جا سکتا، وہ خود تسلیم کے واسطے خاندانِ مومنؔ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ظاہری اور رسمی بات ہے، ان کے کلام میں میر مصحفیؔ، جرأت اور مومنؔ کا رنگ حسرتؔ کے اپنے رنگ کے ساتھ مل کر ان کے تغزل کی کیمیاوی ترکیب بن گیا ہے۔

لیکن حسرتؔ کو تقلیدی شاعر سمجھنا بڑی فاش غلطی ہوگی۔ ان کا انتخابی تغزل (Lyricism) اپنے عنوان کی ایک بالکل نئی چیز ہے، جو نہ تقلید سے پیدا ہو سکتی ہے اور نہ جس کی تقلید کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید نسل کا ہر غزل گو شاعر شعوری یا غیر شعوری طور پر حسرتؔ سے متاثر ضرور ہوا ہے لیکن کوئی ان کی تقلید نہیں کر سکا۔

کٹ گئی احتیاطِ عشق میں عمر
ہم سے اظہار مدعانہ ہوا

تم جفا کار تھے کرم نہ کیا
میں وفادار تھا خفا نہ ہوا

شوق جب حد سے گزر جائے تو ہوتا ہے یہی
ورنہ ہم اور کرمِ یار کی پروا نہ کریں

حال کھل جائےگا بے تابی دل کا حسرتؔ
بار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں

آپ کا شوق بھی تو اب دل میں
آپ کی یاد کے سوا نہ رہا

آرزو تیری برقرار رہی
دل کا کیا رہا رہا نہ رہا

راہ و رسم وفا وہ بھول گئے
اب ہمیں بھی کوئی گلا نہ رہا

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہے حسرت
ان سے مل کر بھی نہ اظہار تمنا کرنا

سب سے شوخی ہے ایک ہمیں سے حیا
اے فریبِ نگاہِ یار یہ کیا

کسی پر مٹ کے رہ جاتا ہے حسرتؔ
ہمیں کیا کام عمر جاوداں سے

حسرت جفائے یار کو سمجھا جو تو وفا
آئین اشتیاق میں یہ بھی روا ہے کیا

ان اشعار سے یہ اثر ہوتا ہے کہ شاعر شعورِ حسن و عشق کی تمام منزلیں طے کئے بیٹھا ہے اور اب اس کے اندر ایک عارفانہ بے نیازی پیدا ہو گئی ہے۔ ضبط و توازن، اعتماد و اطمینان، سنجیدہ اور بے شکن تیور بیک وقت تعلق اور بے تعلقی کا احساس، جس کو تصوف یا ترک کی مجہولیت سے کوئی واسطہ نہیں، بلکہ جو انسانی درک و بصیرت کی صحیح و آخری بلندی ہے۔ یہ ہیں وہ نقش جو حسرتؔ کی غزلیں ہر شخص پر چھوڑ جاتی ہیں جس کے اندر غزل کا مہذب مذاق موجود ہے اور جو صرف اپنے مطالعے کی وسعت اور کثرت کے زور سے شاعری کا مبصر نہیں بنا ہے۔

آخر میں جو بات حسرتؔ کے بارے میں یاد رکھنے کے قابل ہے، وہ یہ ہے کہ اردو غزل گوئی کی تاریخ میں حسرتؔ پہلے شاعر ہیں جن کا کلام غزل کے تمام خصوصیات و لوازم کا حامل ہوتے ہوئے بھی یاس انگیز نہیں ہوتا۔ ان کے مسلک کو کسی طرح قنوطیت نہیں کہہ سکتے، اگرچہ ان کے اشعار میں نہایت پختہ اور بلیغ قسم کا سوز و گداز ہوتا ہے جو اکثر میرؔ کے لب و لہجے سے مل جاتا ہے۔ حسرتؔ کی شاعری اس منزل کی چیز ہے جہا ں رنج و خوشی بچوں کی اصطلاحیں معلوم ہوتی ہیں، جہاں آنکھوں میں آنسو آتے آتے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی ہے اور مسکراتے مسکراتے آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا جاتے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں