site
stats
اہم ترین

حسن نواز جے آئی ٹی پیشی کے بعد میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف کےچھوٹے صاحبزادے حسن نواز پانچ گھنٹے کی طویل تفتیش کے بعد میڈیا سے بات کیے بغیرجوڈیشل اکیڈمی سے گھر کی جانب روانہ ہوگئے جب کہ بڑے صاحبزادے حسین نوازکل پانچویں مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

تفصیلات کےمطابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کے چھوٹےبیٹے حسن نواز جے آئی ٹی کےسامنے پیش ہوئے جہاں پانچ گھنٹے کی طویل تفتیش کے بعد وہ میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ ہو گئے۔

حسن نواز تھکا دینے والے انتظار کے بعد جب جوڈیشل اکیڈمی سے باہر آئے تو صحافیوں کو امید ہو چلی تھی کہ وہ کچھ دیر میڈیا ٹاک کریں گے تاہم حسن نواز نے ہاتھ ہلا کر کارکنان کے نعروں کا جواب دیا اورمیڈیا ٹاک کے لیے ڈائس پرآنے کے بجائے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے خیال رہے کہ شیڈول کے مطابق حسن نواز نے آج اور حسین نوازنے کل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا تھا۔

ذرائع کے مطابق پاناما تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی جےآئی ٹی کی آج ہونے والی پیشی میں وزیراعظم کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز کو بزنس دستاویز سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد حسن نواز نے دوبارہ پیش ہونے پر بھی آمادگی ظاہرکردی ہے۔


تصویر کیوں لیک ہوئی؟ حسین نواز سپریم کورٹ پہنچ گئے


یاد رہےکہ گزشتہ روزحسین نواز نے جے آئی ٹی میں پیشی کی تصویر لیک ہونے کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھاتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا تھا۔


مشرف دورمیں بھی کچھ نہیں ملا تھا،ہم پرہمیشہ جھوٹے مقدمات بنائےجاتے ہیں، حسین نواز


اس سے قبل 3 جون کووزیراعظم کے صاحبزادے حسین نوازنےچوتھی بار جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کےبعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاتھاکہ نواز شریف نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کا درس دیا ہے اور قانون و اداروں کے تقدس کے لیے جان کی بازی بھی داؤ پر لگائی ہے۔


حسن نوازسے جےآئی ٹی کی 7 گھنٹے پوچھ گچھ


واضح رہےکہ 2جون کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز پہلی بار پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیےپیش ہوئےتھےجبکہ ساڑھے چھ گھنٹے تک جے آئی ٹی افسران نے اُن سے پوچھ گچھ کی تھی۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top