site
stats
پاکستان

والد کے انتقال کی وجہ تشدد نہیں طبعی ہے، صاحبزادی حسن عارف

کراچی : ایم کیو ایم لندن کے رہنما پروفیسر حسن ظفرعارف کی صاحبزادی شہرازادے عارف نے کہا ہے کہ میرے والد کی موت طبی تھی جسے کچھ لوگ اپنے مفادات کی خاطر تشدد اور قتل کا رنگ دے رہے ہیں.

اس بات کا انکشاف انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے ایک پیغام میں‌ کیا، شہرزادے کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اُن کے والد کی تصاویر فوٹو شاپ کا نتیجہ نہیں ہے.

حسن ظفر عارف کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ والد کی تشدد زدہ جسم کی تصاویر کچھ عناصر نے خود سے کمپیوٹرکے ذریعے ترمیم کر کے بنائیں اور پھر اسے عام کردیا تاکہ شکوک شبہات پیدا ہوں.

انہوں نے کہا کہ تشدد زدہ جسم کی جعلی تصاویر شیئر کر کے ایک گروہ اپنی مذموم مقاصد کی تسکین چاہتا ہے اور سادہ سے طبی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے.


 اسی سے متعلق : ایم کیو ایم لندن کے رہنما پروفیسرحسن ظفرکی لاش برآمد


حسن ظفر عارف کی صاحبزادی نے وضاحت کی کہ میرے والد دل کے مرض میں مبتلا تھے اور اُن کا انتقال بھی حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا ہے جس کے کافی شواہد موجود ہیں.

انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی تصاویر کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر میں گھریلو باتیں سوشل میڈیا پر نہیں کرتی تاہم اس تکلیف دہ مرحلے کی وضاحت کرنا ضروری سمجھا.

حسن ظفرعارف کی صاحبزادی نے تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی خبروں پر کان نہ دھریں اور امید کرتی ہوں کہ میری وضاحت کے بات یہ بحث ختم ہو جائے گی.


علم کا ظفرِ موج … پروفیسر حسن ظفرعارف …. ابتدا سے اختتام تک


خیال رہے 14 جنوری 2018 کو ایم کیو ایم لندن کے رہنما اور شہر کراچی کے معروف ریٹائرڈ پرفیسر حسن ظفر عارف ابراہیم حیدری کے ایک گوٹھ میں اپنی گاڑی کی عقبی نشست پر مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

ڈائریکٹر جناح اسپتال سیمی جمالی نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی طور پر لگتا ہے کہ موت کی وجہ طبعی ہے کیوں کہ حسن عارف کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ہے تاہم حتمی بات پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی کہی جا سکتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top