The news is by your side.

Advertisement

تارکین وطن سے نفرت، جرمنی کی سرحدوں پر مسافروں کی اچانک چیکنگ میں اضافہ

برلن: جرمن حکام نے تارکین وطن کو اپنے ملک میں غیرقانونی طور پر داخلے کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا، سرحدوں پر اچانک چیکنگ میں اضافہ کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی جرمن پولیس ملکی سرحدوں پر مسافروں کی اچانک چیکنگ کا عمل بڑھانے والی ہے، وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے بتایا کہ یہ قدم سرحدوں پر پولیس کی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھانے اور ثانوی یا سیکنڈری مہاجرت کی حوصلہ شکنی کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن حکام ملک میں جرائم کی وجہ تارکین وطن کو ٹہراتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سال درجنوں افغان باشندوں کو ملک بدر کیا گیا۔

غیر یورپی تارکین وطن کا یورپی یونین کے ممالک میں غیر قانونی طریقے سے سفر سکینڈری مائیگریشن کہلاتا ہے، زیہوفر کے مطابق کسی بھی ملک کی سلامتی اس کی سرحدوں سے شروع ہوتی ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی جرمن وزیر داخلہ نے آسٹریا اور جرمنی کی سرحد پر 2020 کے اوائل تک نگرانی جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ خیال رہے کہ جرمن شہریوں میں تارکین وطن سے متعلق نفرت کے رجحان میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

جرمنی میں تارکین وطن کے حوالے سے قوانین مزید سخت کیے جائیں گے

یاد رہے کہ رواں سال اگست کے آغاز میں جرمن پارلیمان نے مہاجرین سے متعلق سخت ترین قوانین کی منظوری دی تھی جس پر مکمل طور پر عمل درآمد جلد کیا جائے گا۔

جرمنی میں پاس ہونے والے قوانین کے تحت تارکین وطن کی جرمنی میں زندگیاں مزید تنگ کردی جائیں گے جبکہ ملک بدری میں بھی اضافہ ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں