حویلیاں حادثے سے قبل کپتان کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو ARYNews.tv
The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثے سے قبل کپتان کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو

کراچی: حویلیاں طیارہ حادثے سے قبل جہاز کے کیپٹن کی آخری گفتگو سامنے آئی ہے، جس میں ان کہنا تھا کہ میرے طیارے کا انجن نمبر ایک کام نہیں کررہا، فوری طور پر لینڈنگ کی اجازت دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سات دسمبر کو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں میں ہونے والے طیارے کے حادثے سے قبل فلائٹ پی کے 661 کے کیپٹن صالح یار اور فرسٹ آفیسر احمد جنجوعہ کی کنٹرول ٹاور سے مے ڈے کال میں کی جانے والی بات چیت منظر عام پر آئی ہے۔

آخری گفتگو کے مطابق سب سے پہلے کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو اسلام آباد ایئرپورٹ کا فاصلہ بتایا جس کے بعد کنٹرول ٹاورکے کہنے پر پائلٹ نے طیارے کی پوزیشن بتائی کہ طیارہ اس وقت 70ہزار فٹ بلندی پر ہے۔اس کے بعد کنٹرول ٹاور سے بار بار پی کے 661ون پکارا جاتا ہے، مگر جواب نہیں آتا۔

کچھ دیر بعد پائلٹ کی ایمرجنسی کال ”مے ڈے“، ”مے ڈے“ سنائی دیتی ہے۔ پائلٹ کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ ایک انجن ختم ہوچکا ہے، 47افراد آن بورڈ ہیں۔

کیپٹن صالح یار نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے کہا کہ میرے طیارے کے ایک انجن نے کام کرنا بند کر دیا ہے مجھے فوری طور پرلینڈنگ کی اجازت دی جائے، جس کے جواب میں کنٹرول ٹاور نے انہیں ہدایات دیں کہ وہ چکلالہ کا راستہ اختیار کر کے ایئرپورٹ کی طرف آئیں۔

اس کے تھوڑی دیر بعد ہی فرسٹ آفیسر احمد جنجوعہ مے ڈے مے ڈے پکارتے رہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، فوری لینڈنگ کی اجازت دی جائے، جس کے تھوڑی دیر بعد ہی طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

مزید پڑھیں : طیارہ حادثہ: جنید جمشید سمیت سینتالیس افراد شہید

کنٹرول ٹاور سے نجی ایئرلائن کے دو کپتان بھی رابطے میں تھے، ان سے بھی کہا گیا کہ آپ بھی فلائٹ 661 سے رابطہ کریں لیکن جب تک بد قسمت طیارہ حویلیاں کے قریب گر کرحادثے کا شکار ہوچکا تھا۔

اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں کیونکہ ابھی تک طیارے بلیک باکس اور وائس ریکارڈ ڈی کوڈ نہیں کیا جا سکا ہے۔ ڈی کوڈ ہونے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آسکیں گی کہ مذکورہ حادثہ انسانی غفلت یا کسی ٹیکنیکل خرابی کا نتیجہ تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں