site
stats
شاعری

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق

علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا
غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق

اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدم
بغل میں اس کی ہیں اب تک بتانِ عہد عتیق

مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہت
ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحبِ تصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق

**********

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top