جمعہ, دسمبر 12, 2025
اشتہار

حضرتِ خضر: قرآنی تذکرہ، روایتیں اور قصّے

اشتہار

حیرت انگیز

تذکرۂ آبِ حیات تو ہم سبھی نے سن رکھا ہے، لیکن اس کی حقیقت اور اس سے جڑی شخصیت یعنی حضرتِ خضر کے بارے میں بھی ہماری معلومات ناقص ہیں یا یہ کہہ لیں کہ ان کے نبی ہونے یا صاحبِ کرامت ہونے میں اختلاف ہے۔ لوگ آبِ حیات کو افسانوی یا خیالی چیز سمجھتے ہیں اور اسی طرح حضرتِ خضر کے بارے میں کئی روایات پڑھنے کو ملتی ہیں جو اکثر موضوع بنتی ہیں۔

آبِ حیات کی نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسے پی کر حیاتِ جاودانی ممکن ہے۔ اساطیر یا روایات کے مطابق یہی وہ پانی ہے جسے حضرتِ خضر نے نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے زندگی پاگئے۔ ایک خیال یہ ہے کہ عام انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر حضرت خضر تاقیامت بھٹک جانے والوں کو راستہ دکھاتے رہیں گے۔ حضرت خضر کو اکثر سمندر اور دریا کے مسافروں کی راہ نمائی کرنے والا اور ان کا محافظ بھی سمجھا جاتا ہے۔ صوفیا انھیں روحانی شخصیت اور برگزیدہ ہستی یا ولی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ حضرتِ خضر کو ایک نبی ہی نہیں اکثر فرشتہ بھی کہا گیا ہے۔ آبِ حیات اور حضرتِ خضر سے متعلق کئی حکایات اور قصائص کے علاوہ اردو میں نظمیں‌ اور اشعار بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ہم یہاں حضرتِ‌ خضر کے بارے میں علماء و مشہور مفسرین کا استدلال، قیاس یا رائے پیش کررہے ہیں۔

جمہور علمائے امّت کے نزدیک حضرت خضر علیہ السلام نبی گزرے ہیں۔ البتہ ان کو کچھ تکوینی خدمتیں بھی من جانب اللہ سونپی گئی تھیں۔ علماء کے نزدیک ان کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک واقعہ قرآن پاک میں ملتا ہے جس میں حضرت حضر کے بعض ایسے افعال کا تذکرہ ہے جو قطعی طور پر ظاہرِ شریعت کے خلاف ہیں اور یہ استثناء صرف وحی الہیٰ کے ذریعے ہی ممکن ہے اور علماء کے مطابق یہ تخصیص انبیاء کے ساتھ ہے۔ تاہم بعض علماء اور مفسرین نے اسے دوسرے انداز سے دیکھا ہے اور وہ سمجھتے ہیں‌ کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے تکوینی (نظامِ قدرت سے متعلق) سمجھنا چاہیے اور اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔ قرآن میں حضرت خضر کا تذکرہ مشرکینِ مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہونے والی سورہ الکہف میں ملتا ہے۔ اِن سوالات کے ذریعے مشرکینِ مکہ نے پیغمبرِ اسلام سے حضرتِ خضر کے علاوہ اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کی حقیقت جاننا چاہی تھی۔ قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ اور ’ہمارے بندوں میں سے ایک بندے‘ یعنی حضرت خضر ’مجمع البحرین‘ پر ملے۔

محدثین کی ایک جماعت حضرت خضر علیہ السلام کی دنیاوی حیات کا انکار کرتی ہے، جب کہ جمہور علماء و صلحا حیات کے قائل ہیں۔اسلامی عقائد یا مختلف مسالک کے زیر اثر دراصل حضرت خضر کی زندگی، ان کے وصال اور انسانوں کی راہ نمائی کرنا کوئی اعتقادی یا علمی مسئلہ نہیں رہا ہے۔ علماء کہتے ہیں‌ کہ قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کوئی صراحت نہیں ملتی اور اس بارے میں ہر دور میں علماء میں اختلاف رہا ہے۔ اس لیے عام لوگوں کو اس میں تحقیق و تمحیص کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم اسلامی عقائد یا انبیاء اور اولیاء سے متعلق جیّد علماء کی کتابیں پڑھیں تو ہمیں ان سے متعلق روایات ملیں گی۔ فتاوٰیٔ محمودیہ میں ہے: ”جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ خضر علیہ السلام زندہ ہیں، ہاں بعض اس کے قائل ہیں کہ انتقال کر چکے ہیں۔

محدثینِ کرام عموماً حضرت خضر کی حیات کے قائل نہیں، صوفیائے عظام قائل ہیں۔“
(مایتعلق بالأنبیاء وأتباعہم: ج:اوّل، ص: 442-445، ط: ادارہ الفاروق)

امداد الفتاوٰی میں ہے:
”حضرت خواجہ حضر علیہ السلام کا زندہ رہنا جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تک ثابت ہے، چنانچہ بعد وفاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے اور تعزیت فرمائی اور حضر ت ابوبکر صدیق و حضرت علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔

اور اب تک زندہ ہونے پر تمام اہلِ باطن و صلحاء کا اتفاق ہے اور ہمیشہ ایسے لوگوں سے ملاقات کرتے رہے اور کرتے ہیں۔

خیر الفتاوٰی میں ہے:
”جمہور علمائے سلف کے نزدیک حضرت خضر علیہ السلام نبی تھے اور ان کی شریعت کا زیادہ تعلق حقائق باطنہ شرعیہ سے تھا، حضرت موسی علیہ السلام علی ہٰذا اکثر انبیاء علیہم السلام کی شرائع کا تعلق احکام ظاہر سے تھا، حضرت خضر علیہ السلام کے وہ افعال بھی من عند اللہ شریعت تھی اور وہی منزل تھی، اسی واسطے جب حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا :”وما فعلته عن أمري” تو موسیٰ علیہ السلام نے انکار نہیں فرمایا۔“
(مایتعلق بالأنبیاء والصلحاء)

ان کے علاوہ ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اپنی تفسیرِ قرآن میں حضرت خضر سے متعلق لکھا ہے۔ عراق کے بعض علاقوں میں ہر سال ماہ فروری میں جشن خضر منایا جاتا ہے۔ اسی طرح‌ مختلف ممالک میں‌ اسلام کے پیروکار انھیں روایات اور بعض حکایات کی روشنی میں جانتے اور ان کی حیاتِ جاودانی کو درست مانتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اور کئی دیگر جگہوں پر بہت سے مسلمان اور مسیحی پیروکار بھی حضرت خضر کی یاد مناتے ہیں۔

علّامہ اقبال نے بھی خضرِ راہ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی تھی اور انھوں نے یہ نظم انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں 1922ء کو سنائی تھی۔ اس نظم کی تشکیل حضرت خضر علیہ السلام اور شاعر کے مابین مکالمے سے ہوئی ہے۔ اقبال نے اپنے اشعار میں متعدد مقامات پر حضرت خضر کے خصوصی کردار کا ذکر کیا ہے اور مکالمے کیے ہیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں