بہشتی دروازہ آخر ہے کیا؟ baba fareed ud din masood ganj shakar
The news is by your side.

Advertisement

بہشتی دروازہ آخر ہے کیا؟ یہ نام کیوں‌ دیا گیا؟

سرزمین پنجاب جو اپنے پانچ دریاﺅں کی روانی اور زرخیزی کی وجہ سے کل خطہ اراضی میں ایک امتیازی و انفرادی شان رکھتی ہے وہیں اس سرزمین کے چپے چپے سے ہدایت و روحانیت کے دریا بھی رواں رہے ہیں۔

اس خطے میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں سے رشد و ہدایت، فیض و شفا اور روحانیت کے ایسے دریا رواں فرمائے ہیں کہ جن سے دلوں کی بنجر زمین آباد ہوئی، حقائق و معرفت کی کھیتی اُگی اور تلاشِ حق میں سرگرداں سیراب ہوئے۔

انہی روحانی دریاﺅں میں ایک اہم دریائے حکمت و معرفت، منبع سرچشمہ ہدایت، مرکز ولایت حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکرؒ کا مزارِ پُرانوار ہے۔

حضرت بابا صاحبؒ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپؒ کا مزار اقدس پاک پتن شریف میں مرجع خلائق ہے، پاک پتن،  پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع ساہیوال کا مشہور قصبہ اور تحصیل ہے جو دریائے ستلج کے دائیں کنارے سے 8 میل دور واقع ہے۔

پاک پتن کا پرانا نام ” اجودھن “ ہے اس قصبے کو زمانہ قدیم سے تاریخی حیثیت حاصل رہی ہے اور یہ قدیم راجاﺅں کا دارالحکومت رہا ہے لیکن اب اس بستی اور قصبے کو صرف اور صرف حضرت بابا فرید مسعود گنج شکرؒ کی نسبت سے شہرت حاصل ہے اب اس کی پہچان کے لیے بس یہی حوالہ کافی ہے۔

جس طرح حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ ولایت میں، روحانیت میں، دنیائے علم و دانش میں، ریاضات و مجاہدات میں، ظہور کرامات میں اور حلقہ اولیاء کرام میں اپنے نام نامی ” فرید الدین “ کی طرح فرید یعنی انفرادی اور امتیازی مقام و رتبے اور شان کے حامل ہیں اسی طرح آپ کا مزار اقدس بھی ” فرید “ یعنی منفرد ہے۔

حضرت بابا صاحبؒ کے مزار اقدس کی وجہ شہرت آپؒ کا آج تک جاری و ساری فیض روحانی تو ہے ہی جس سے خلق خدا اپنے اپنے ظرف و مشرب کے مطابق اکتساب کر رہی ہے وہیں ایک وجہ شہرت وہ لطف دوام وہ باب کرم ہے جسے ” باب جنت“ کہاجاتا ہے اور عوام الناس اپنے اپنے طور پر اسے بہشتی دروازہ اور جنتی دروازہ کہتے ہیں۔

حضرت بابا صاحبؒ کے روضہ اقدس کے دو دروازے ہیں، ایک شرق کی جانب ” شرقی دروازہ “ جسے  ” نوری دروازہ “ کہا جاتا ہے، روضہ مبارک کی زیارت کے لیے آنے والے زائرین اسی دروازے سے روضہ مبارک میں داخل ہوتے ہیں۔

دوسرا دروازہ جنوب کی جانب جنوبی دروازہ ہے یہی ” بہشتی دروازہ “ ہے عام دنوں میں یہ بند رہتا ہے اور صرف عرس کے ایام میں پانچ راتوں کے لیے پانچ تا 10محرم الحرام کھولا جاتا ہے۔

کتب معتبرہ کی روایت کے مطابق شیخ الشیوخ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے روضہ مبارک کی تعمیر آپؒ کے مرید و خلیفہ سلطان المشائخ حضرت خواجہ سید محمد نظام الدین اولیاؒ نے کرائی تھی، حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اشارہ غیبی سے روضہ مبارک کی بنیاد ایسی پاک اینٹوں پر رکھی تھی جن پر قرآن پاک ختم کیے گئے تھے۔ ( ایک روایت کے مطابق ایک ایک اینٹ پر گیارہ قرآن مجید کی تلاوت کی گئی تھی)

جب خواجہ نظام الدین اولیاؒ الہامِ غیبی کے مطابق روضہ مبارک تعمیر کرواچکے تو آپؒ نے بچشم باطن مشاہدہ کیا کہ ارواح مقدسہ کے جھرمٹ میں حضور سرور دو عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں اور آپؒ کو ارشاد فرماتے ہیں:

’’اے نظام الدین! جناب رب العزت سے ہمیں فرمان ہوا ہے کہ جو کوئی اس دروازے سے گزرے گا ان شاءاﷲ اس کی بخشش ہوجائے گی “ اور تم اعلان کردو ” مَن دَخَلَ ھٰذِہِ البَابَ اٰمِن “ ”جو اس دروازے سے داخل ہو ‘ اس نے امان پائی “ ۔

حسب حکم حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ نے اس بات کا اعلان فرمایا اور آپ کا یہ اعلان شرق سے غرب تک پہنچا اسی لیے اس دروازے کو بہشتی دروازہ کہتے ہیں اور آج تک دور دراز سے عشاق و عقیدت مند پروانہ وار چلے آتے ہیں، بزرگوں کے نزدیک یہ بہشتی دروازہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ پر اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور بخشش و عطا ہے۔

بہشتی دروازے کا افتتاح 6 محرم الحرام یعنی 5 محرم کا دن گزار کرغروب آفتاب کے بعد ہوتا ہے، یہ حضرت بابا فریدؒ کے عرس کی تقاریب کا بہت ہی خاص مرحلہ ہوتا ہے جس میں لاکھوں زائرین و عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔

عشاء کی نماز کے بعد حضرت دیوان صاحب سجادہ نشین دربار بابا صاحبؒ انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ جلوس کی صورت میں تشریف لاتے ہیں اور بہشتی دروازے کے افتتاح سے پہلے محفل سماع میں شرکت فرماتے ہیں۔

یہ محفل دالان میں کھڑے کھڑے قائم رہتی ہے، قوال حضرات مولانا جامیؒ اور حضرت امیر خسروؒ کے کلام سے اس روح پرور تقریب کو مزید جلابخشتے ہیں جس سے حاضرین کی روحانی بالیدگی نقطہ عروج پر پہنچ جاتی ہے بعد ازاں دیوان صاحب بہشتی دروازے کے سامنے کھڑے ہوکر عالم اسلام اور بالخصوص حاضرین کے لیے خصوصی دعا فرماتے ہیں اور پھر اﷲ محمد چار یار، حاجی خواجہ قطب فرید، کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں اور تین بار دستک دے کر بہشتی دروازے کا افتتاح فرماتے ہیں۔

حاضرین بھی دیوان صاحب کی اتباع میں اﷲ محمد چار یار حاجی خواجہ قطب فرید کا نعرہ بلند کرتے ہیں جس سے فضا حق فرید کے نعروں سے گونج اُٹھتی ہے۔

بہشتی دروازے کے افتتاح کے بعد حضرت دیوان صاحب داخل ہوتے ہیں پھر دیگر سجادہ نشین صاحبان اور معززین بہشتی دروازے سے گزر کر نوری دروازے سے باہر چلے جاتے ہیں، اس کے بعد عوام کا داخلہ شروع ہوجاتا ہے بابا فرید کے لاکھوں پروانے حق فرید بابا فرید کا نعرہ لگاتے ہوئے جنتی دروازے میں داخل ہوتے ہیں اور یہ سماں رات بھر جاری رہتا ہے۔

ہر زمانے میں اکابر، مشائخ عظام اور اولیاء کرام حضرت بابا صاحبؒ کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر اپنے اعلیٰ ظرف کے مطابق اکتساب فرماتے رہے ہیں اور بہشتی دروازے سے گزرنے کو اپنی سعادت جانتے رہے ہیں۔

(تحریر: حافظ فیضان نظامی، کیو ٹی وی)

آفتاب ولایت حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی زندگی پر اک نظر

آفتاب ولایت حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ کا شمار چشتیہ سلاسل کے معروف ترین بزرگان دین میں ہوتا ہے، سلسلہ چشتیہ میں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے بعد سب سے زیادہ شہرت آپ ہی کے حصے میں آئی، آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں اور خلفا کی تعداد 700 ہے، چھ سو خلفا انسانوں میں اور سو خلفا جنات میں سے تھے، آپ مجذوب السالک تھے یعنی آپ کی روحانیت کے تین حصے جذب کے اور ایک حصہ سلوک پر مشتمل تھا۔

نام اور شجرہ نسب:

آپ کا نام مسعود اور والدین کا نام سلیمان تھا اسی نسبت سے مسعود بن سلیمان کہلائے، آپ فاروقی ہیں، آپ کا شجرہ نسب عمر بن الخطابؒ سے جاملتا ہے۔

القابات:

گنج شکر ، شکر گنج، بابا فرید، شہباز لامکاں، باباصاحب کے القابات سے آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔

پیر طریقت:

آپ نے قطب الاقطاب حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشیؒ کے دست حق پر بیعت کی جو خواجہ معین الدین چشتیؒ کے جانشین تھے۔

آپ کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کو بیک وقت آپ کے پیرو مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سمیت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی المعروف خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ نے بیک وقت روحانی قوت عطا کی اس موقع پر سلطان الہند نے تاریخی الفاظ ادا کیے کہ قطب الدین تم ایک شہباز کو زیر دام لائے ہو جس کے بعد آپ کو شہباز لامکاں کا لقب عطا ہوا کہ جس کا ٹھکانہ کہیں نہیں صرف سدرۃ المنتہیٰ پر ہے۔

مریدین خاص:

قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسویؒ(محبوب ترین مرید)

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ(نظامی سلسلے کے بانی)

حضرت مخدوم علاء الدین احمد صابر کلیریؒ(صابری سلسلے کے بانی)

حضرت خواجہ بدرالدین اسحاقؒ (داماد)

بابا منگھوپیرؒ(کراچی میں مدفون ہوئے)

حضرت شمس الدین ترک پانی پتیؒ(جنہیں آپ نے صابر کلیری ؒ کے ساتھ کردیا تھا)

شیخ نجیب الدین متوکلؒ(بھائی)

چار ہم عصر اولیائے کرام:

حضرت شیخ بہا الدین زکریا ملتانیؒ: آپ سہروردی سلسلے کے بزگ ہیں، ملتان میں مدفون ہوئے۔

بابا فرید الدین مسعود گنج شکرصاحب عرس، آپ سے فریدی سلسلہ جاری ہوا، پاک پتن میں مدفون ہوئے۔

حضرت جلال الدین سرخ بخاریؒ:  نام سے ہی ظاہر ہے، آپ جلالی کیفیت کے حامل تھے

حضرت عثمان بن مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ : آپ چاروں دوستوں میں سب سے کم عمر تھے، سیہون میں آپ کا مزار مرجع الخلائق ہے۔

درگاہ خاص حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے صاحب شجرہ خواجہ امین الدین نظامی کے مطابق آپ چاروں دوست تھے، سب سے کم عمر لعل شہباز قلندر ؒ تھے، آپ چاروں سہروردی سلسلے کے بانی پیر طریقت شیخ شہاب الدین سہرودری کی خدمت میں حاضری کے لیے بغداد روانہ ہوئے، نصف شب کو پہنچے، شیخ شہابؒ نے حضرت عثمانؒ کو بلایا، ان سے خدمت لی، سینے سے  لگا کر علم منتقل کیا اور انہیں لعل شہباز قلندرؒبنادیا، بعدازاں باری باری تینوں بزرگوں کو بلایا اور اپنی تصنیف عوارف المعارف(تصوف کی شہرہ آفاق کتاب) کا درس دیا اور مراتب سے نوازا۔

بابا فریدؒ نے اپنے چھ خلفا کبیر کو چھ علاقہ ولایت عطا کیے، قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسویؒ کو ہانسی، خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کو غیاث پور(دلی)، مخدوم صابر کلیریؒ کو کلیر شریف، منگھوپیر بابا کو کراچی کا علاقہ عطا کیا جبکہ اپنے داماد شیخ بدر الدین اسحاقؒ کو اپنے ساتھ رکھا جب کہ لعل شہباز قلندرؒ کو سیہون شریف بھیجا، ہر خلفا کبیر کے ماتحت سوسو خلفا رکھے جو کہ چھ سو ہوئے جب کہ سو خلفا جنات میں سے تھے یوں 700 کی تعداد پوری ہوتی ہے۔

حضرت لعل شہباز قلندرؒ بابا فریدؒ  کا بہت احترام کرتے تھے، آپ کے حکم پر لعل شہباز قلندرؒ بابا منگھوپیر بابا سے ملنے کراچی تشریف لائے اس وقت یہ جگہ غیر آباد تھی، آپ کا مسکن ندی کنارے تھے، لعل شہاز قلندر ندی سے آپ کے گھر تک مگرمچھ پر سفر کرکے گئے، بعدازاں آپ کے چند خلفا منگھوپیر بابا کی خدمت میں آئے تو آپ بھی اپنے پیرو مرشد شیخ لعل شہبازؒ کی تقلید مگر مچھ پر سواری کرکے گئے بعدازاں وہ سارے مگر مچھ منگھوپیربابا کے مزار پررہ گئے اور انہیں وہاں کے مجاوروں نے باقاعدہ خوراک دی، ان ہی مگرمچھوں کی نسل کے مگر مچھ آج تک مزار کے احاطے میں موجود ہیں۔

اولادیں

آپ نے دو شادیاں کی، چھ اولاد نرینہ اور تین اولاد زرینہ پائیں

شیخ بدرالدین سلیمان

شیخ شہاب الدین گنج علم

شیخ نظام الدین شہید

شیخ یعقوب

شیخ عبداللہ

شیخ نصراللہ

بی بی فاطمہ

بی بی شریفہ

بی بی مستورہ

کرامتیں:

پتھر سونا بن گیا

آپ سے بہت سی کرامتیں پیش آئیں، ایک بار ایک عورت بیٹیوں کی شادی کی درخواست کے لیے آئی اور رونے لگی، آپ نے پتھر پر قل ھو اللہ احد پڑھ کر دم کیا تو وہ سونا بن گیا بعدازاں عورت بھی اپنے گھر میں یہ کرنے لگی لیکن پتھر پتھر ہی رہا اس نے آکر آپ سے کہا تو آپ نے تاریخی جملہ ادا کیا کہ اٹھارہ برس تک فرید نے وہ کیا جو خدا نے کہا اب فرید جو چاہتا ہے خدا اسے پورا کردیتا ہے۔

والدہ کو کچھ مشکوک غذا کھانے نہ دی

ایک بار دوران حمل آپ کی والدہ نے کچھ بیر توڑ کر کھائے تو طبیعت ایک خراب ہوئی، قے ہوئی اور سارا کھایا باہر آگیا،جب آپ بڑے ہوئے تو والدہ نے کہا کہ میں نےدوران حمل کبھی مشکوک شے معدے میں داخل نہ کی تب ہی تمہیں اتنی عظمت نصیب ہوئی تو بابا فرید نے کہا آپ کھا بھی لیتی تو میں کھانے کہاں دیتا تھا، آپ نے والدہ کو بیروں کا واقعہ یاد دلایا تو والدہ حیرت زدہ رہ گئیں۔

جادوگروں کے ٹولے کو شکست دی

آپ اجودھن میں تشریف فرما تھے کہ ایک گوالن دودھ لے کر گزری، آپ نے خریدنے کی پیشکش کی تو بولی کہ ایک جادوگر ہمارے جانوروں کا دودھ خریدتا ہے اسے نہ بیچیں تو جانورو مرجاتے ہیں، دودھ کی جگہ خون آتا ہے، آپ نے اسے روک لیا اور تسلی دی، اسے ڈھونڈتے ہوئے جادوگر کاایک چیلا آیا تو آپ نے اسے کہا بیٹھ جائو وہ بیٹھ گیا اور چاہنے کے باوجود اٹھ نہ سکا، دوسرا آیا تو آپ نے اسے بھی بٹھالیا اس طرح پورا گروہ آیا اور آپ فرماتے گئے بیٹھ جائو اور کوئی نہ اٹھ سکا، آکر میں جادوگر خود آیا اور وہاں بیٹھنے پر مجبور ہوگیا، جب اٹھ نہ سکا تو سر زمین پر رکھ کر معافی چاہی، آپ نے مشروط رہائی دی اور جادوگر تمام چیلوں سمیت وہ علاقہ فوری طور پر چھوڑ گیا۔

آپ کی کرامات بے شمار ہیں جنہیں مختصر وقت میں احاطہ تحریر میں لانا مشکل تھا اس لیے اختصار کے ساتھ صرف یہ تین کرامتیں تحریر کی گئی ہیں۔

گنج شکر کی وجہ تسمیہ:

اس ضمن میں کتب تصوف میں چار روایتیں ہمیں ملتی ہیں۔

اول روایت یہ ہے کہ بچپن میں آپ کی نماز کی عادت کوبرقرار کھنے کے لیے آپ کی والدہ قرسم خاتون آپ کے مصلے کے نیچے چپکے سے شکر رکھ دیا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ جو بچہ نماز پڑھتا ہے اسےاللہ تعالیٰ شکر عطا کرتا ہے ایک دن شکر رکھنا بھول گئیں لیکن غیب سے مصلے کےنیچے سے پھر بھی شکر نکل آئی جس پر قرسم خاتون کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے لاج رکھنے کا خدا کا شکر ادا کیا۔

دوسری روایت یہ ہے کہ آپ درخت کےنیچے آرام فرما تھا کچھ تاجر چینی لے کر گزرے آپ کے استفسار کہہ دیا کہ یہ تو نمک ہے تو آپ نے فرمایا کہ نمک ہی ہوگا، بعد ازاں تاجر وں نے بازار پہنچ کر بوریاں کھولیں تو نمک ملا، واپس آکر معافی کے طلب گار ہوئے تو آپ نے فرمایا بوریوں میں چینی ہے تو چینی ہی ہوگی، بوریاں کھولی گئیں تو چینی نکلی۔

تیسری روایت یہ ہے کہ آپ ضعف کے سبب رات کے اندھیرے میں ذکر الٰہی کرتے ہوئے گزرے اور گرپڑے ، منہ میں جو مٹی آئی وہ شکر بن گئی تو آپ کے پیرو مرشد نے آپ کو شکر گنج قرار دیا

چوتھی روایت ہے کہ آپ نے پیرومرشد کے کہنے پر طے کے روزے رکھے، آپ پانچ سے چھ دن سے روزے سے تھے محض پانی سے روزہ رکھ رہے تھے، ضعف اور مدہوشی میں آپ نے مٹی اٹھا کر منہ میں ڈال لی جو چینی بن گئی۔

وصال:

سلسلہ چشتیہ کے یہ آفتاب ولایت 95 سال کی عمر میں 5محرم الحرام 690ہجری کو علالت کے سبب دنیا سے پردہ فرما گئے، آپ کے وصال کے وقت آپ کے عزیز ترین محبوب خواجہ نظام الدین اولیاؒ آپ کے پاس نہ تھے جس طرح آپ اپنے پیرومرشد قطب الدین بختیار کاکی کے وصال کےوقت موجود نہ تھے۔

آپ کا مزار مبارک ملتان کے قریب پاک پتن شریف میں واقع ہے جہاں عرس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے مدد لی گئی

سیرالاولیاء: مولف حضرت امیر خورد کرمانیؒ

فوائدالفواد: مولف حضرت امیر العلا سنجریؒ

خیر المجالس: ملفوظات خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی ؒ

کتاب سیرالاقطاب، مولف شیخ اللہ دیا چشتی ،مترجم محمد علی جویا مراد آبادی

اللہ کے سفیر: تصنیف خان آصف

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں