The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین کی فروخت میں کون ملوث؟ ملزمان کے انکشافات نے متعلقہ حکام کی دوڑیں لگوادیں

کراچی : رقم کے عوض کورونا ویکسین کی فروخت میں محکمہ صحت کے افسران اور فلاحی ادارے کے عہدیدار مرکزی کردار نکلے، جس کے بعد پولیس نے افسران کی گرفتاری کے لیے اجازت طلب کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے عملے کی جانب سے کورونا ویکسین کی فروخت کے معاملے میں ملوث ملزمان نےمزید انکشافات کئے ، جس کے بعد متعلقہ حکام کی دوڑیں لگ گئی۔

ملزمان نے ملوث سرکاری افسران سے متعلق سب بتا دیا ، جس کے مطابق ڈی ایچ او ایسٹ صمد اور این جی او کا عہدیدار امان اللہ ملوث نکلا، پولیس نے محکمہ صحت کے افسران کی گرفتاری کے لیے اجازت طلب کرلی ہے۔

ملزم نے بتایا کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسر صمد سمیت دیگر نے ویکسین فروخت کا کہا ، سلطان مدد ہیلتھ کیئر سروس کے امان سے مل فائزرکی فروخت کا منصوبہ بنایا اور ہم نے گھر گھر جاکر فائزر ویکسین لگانا شروع کی۔

ملزمان کا کہنا تھا کہ ویکسین لگانے والوں کی انٹری بیرون ملک جانے والے افراد میں کر دیتے تھے اور ویکسین فروخت کرنے کےبعد پیسے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو دیتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار ملزم ذیشان ڈی ایچ او ہیلتھ آفس میں کنٹریکٹ پر میل نرس اپائنٹ ہوا، جس کے بعد سائنو فام سائنو ویک اور فائزر ویکسین ساڑھے 7سے 15 ہزار میں فروخت کی۔

یاد رہے کراچی میں پریڈی پولیس نے اسٹنگ آپریشن کے دوران گھروں پر جا کر بھاری رقوم کے عوض غیر قانونی طور پر کورونا ویکسین لگانے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا تھا ، ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ انھیں یہ ویکسین سرکاری اہلکار فراہم کرتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں