The news is by your side.

Advertisement

ماہرین صحت نے ڈبے کے دودھ کو غذائیت سے بھرپور قرار دے دیا

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نے کھلے دودھ کے مقابلے میں ڈبے کے دودھ کو غذایت سے بھرپور قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے کہا کہ پرانے وقتوں میں مختصر افراد ہوتے تھے، جو گھر کے جانوروں کو اپنے ہاتھ سےصاف ستھرا چارہ کھلاتے اور صاف برتنوں میں ان کا دودھ نکالتے تھے، جس کے باعث دودھ کی افادیت برقرار رہتی تھی۔

رکن ایگزیکٹو کمیٹی پی ایم اے نے کہا کہ اس وقت دنیا انڈسٹلائزیشن کی جانب چلی گئی ہے، دنیا بھر میں بڑے بڑے شہر وجود میں آچکے ہیں، بڑے شہروں میں رہنے والے افراد کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اپنے گھروں میں پالتو جانور پالے اور اپنے لئے صاف دودھ حاصل کرے، اس صورت میں آپ کے پاس صرف دو آپشن رہ جاتے ہیں، ایک یہ کہ دکان سے دودھ خریدے یا ڈبے کا دودھ استعمال کرے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈبے کےدودھ میں بھی دو مسائل کا سامنا ہے، ایک وہ جو بچوں کے لئے پاوڈر کا دودھ استعمال کرتے ہیں میں اس کی بات ہی نہیں کرتا، ہم مائع دودھ کی بات کررہے ہیں، جس میں ایک دکان کا دودھ شامل ہے اور دوسرا ڈبے کا دودھ۔

ڈاکٹر مرزا علی اظہر کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں کھلے دودھ کا مسئلہ جانوروں کو دی جانے والی غذا اور ان کے دودھ نکالنے کے طریقے سے پیدا ہورہا ہے، وہ گوالے جو بھینسوں کا دودھ نکالتے ہیں ان کے لباس اور ہاتھ کتنے صاف ہیں، جانوروں کو کس ماحول میں رکھا جارہا ہے، جس برتن میں دودھ نکالا جارہا ہے وہ کیسا ہے اور اسے صاف پانی سے دھویا گیا ہے یا نہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ جس ڈبے میں سار دودھ ڈالا جاتا ہے اور ڈبے کیسا ہے کیا روزانہ کی بنیاد پر اسے صاف پانی سے دھویا جاتا ہے یا نہیں ، یہ جاننا بہت ضروری ہے، بعد ازاں اسے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے زریعے منتقل کیا جاتا ہے، جس طرح انہیں ٹرانفسر کیا جاتا ہے اس پر بھی ایک سوالیہ نشان ہیں۔

ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے بتایا کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب دوکاندار دودھ کو کسی بڑے برتن میں ڈالتا ہے تو عموما کندھے پر رکھے ایک سفید کپڑے کا استعمال کرتا ہے، اس تمام طریقے کو کنٹیمینیٹ (خالص نہ ہونا) کہا جاتا ہے، یہ جراثیم کو پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہے، جبکہ ڈبے کے دودھ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ ڈبے کے دودھ کی تیاری کے دوران انسانی ہاتھ کا استعمال نہیں ہوتا، خودکار طریقے سے ڈبے کے دودھ کو پیک کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کھلے دودھ کا استعمال بیماریوں کا سبب، ماہرین کی رائے

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مکھیوں اور گندگی کے باعث کھلے دودھ کا استعمال بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے،کیونکہ مالکان صفائی کے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں 90فیصد لوگ کھلا دودھ استعمال کرتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے، چند ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کھلا دودھ فروخت نہیں کیا جاتا، دنیا کے بیشتر ممالک میں دودھ کی فروخت میں حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں