The news is by your side.

Advertisement

ماہرین صحت نے لوڈ شیڈنگ کو کرونا کے پھیلاؤ کی نئی وجہ قرار دے دیا

کراچی: ماہرین صحت نے لوڈ شیڈنگ کو کرونا کے پھیلاؤ کی نئی وجہ قرار دے دیا ہے، حکومت سے ماہرین صحت نے لوڈ شیڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی میں بدترین غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ برقرار ہے، جس سے گھروں میں کرونا وائرس کے آئسولیٹ مریض شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

شدید حبس اور گرمی کے باعث گھروں میں قرنطینہ کرنے والے افراد گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے، جس سے وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے، ماہرین صحت نے اس صورت حال کے پیش نظر حکومت سے لوڈ شیڈنگ فوری ختم کرنے کی اپیل کر دی ہے۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر سلمان احمد غوری، قومی ادارہ امراض قلب

ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ بدترین لوڈشیڈنگ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو سماجی فاصلے کا اصول بے کار ہو جائے گا، اور کرونا کیسز میں اضافہ سامنے آئے گا، اس لیے حکومت لوڈ شیڈنگ کا فوری خاتمہ کرے۔

واضح رہے کہ شہر میں لوڈ شیڈنگ کے باعث کرونا کے مریض بھی گھروں سے باہر فٹ پاتھوں اور گلیوں میں بیٹھنے پر مجبور ہو چکے ہیں، لوڈ شیڈنگ کے باعث گھر والوں سے بھی رابطے میں آتے ہیں۔

گیس کی قلت کے نام پر لوڈ شیڈنگ، کے الیکٹرک کے دعوے کی حقیقت سامنے آگئی

ماہر امراض قلب ڈاکٹر اعجاز احمد نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شدید گرمی کے باعث ڈی ہائیڈریشن میں اضافہ ہوتا ہے، لوڈ شیڈنگ کے دوران بخار میں مبتلا مریض گھر رہے گا تو مشکلات بڑھ جائیں گی، کرونا کے مریض کو بخار کی وجہ سے گرم ماحول مشکلات پیدا کرتا ہے، اس صورت حال کو کنٹرول کرنا ہوگا۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر اعجاز احمد

ماہر امراض قلب ڈاکٹر سلمان احمد غوری نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ سے کو وِڈ 19 کے مریضوں کے لیے صورت حال مزید خراب ہوگی، اس شدید گرمی لوگ بلبلا کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، کرونا کو روکنے میں حکومتی کوشش رائگاں جائے گی، چھوٹے گھروں میں لوڈ شیڈنگ کے باعث سماجی رابطے کے اصول پر عمل بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بجلی کی عدم موجودگی میں بے شمار کرونا مریض بھی گھروں سے نکل جاتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے فوری پالیسی بنائی جائے، کرونا وائرس کو روکنے کی کوششیں لوڈ شیڈنگ کے باعث ناکام ہو سکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں