The news is by your side.

نقیب قتل کیس کی سماعت: راؤ انوار کے خلاف ایک اور مقدمے کی تیاری

کراچی: انسداددہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں‌راؤ انوار کی جانب سے نقیب اوردیگرکو دہشت گرد قراردینے کے مقدمات کو جعلی قرار دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداددہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے تفتیشی افسرایس پی عابد قائم خانی کونوٹس جاری کردیا.عدالت نے تفتیشی افسرکو 5 مارچ کو عدالت میں جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے.

نیز نقیب اللہ اور دیگر کے خلاف 5 مقدمات کی بی کلاس رپورٹ عدالت کو موصول ہوگئی. رپورٹ کے مطابق راؤ انوار اور ان کے ساتھیوں پر ایک اورمقدمے کے لئےمحکمہ داخلہ سے رجوع کرلیا گیا ہے.

رپورٹ میں‌ موقف اختیار کیا گیا کہ چاروں افراد کوعثمان خاصخیلی گوٹھ میں واقع پولٹری فارم میں قتل کیا گیا، البتہ پولٹری فارم میں نہ تو گولیوں کے نشانات ملے ہیں، نہ ہی دستی بم پھٹنے کے آثار ملے.

رپورٹ میں‌ موقف اختیار کیا گیا کہ حالات و واقعات اور شواہد کی روشنی میں یہ پولیس مقابلہ جعلی تھا، چاروں افراد کو قتل کرنے کے بعد منصوعی کرائم سین بنایا گیا، اسلحہ اور گولیاں اردگرد ڈال دی گئیں.


نقیب اللہ قتل کیس، نامزد ملزمان کو مدد فراہم کرنے والا سہولت کار گرفتار


رپورٹ میں‌ یہ بھی کہا گیا ہے کہ راؤ انوار اور اس کے ساتھی جائے وقوعہ پر موجود تھے، مقابلہ جعلی تھا، جائے وقوعہ پر کسی مقابلے کے شواہد نہیں‌ ملے.

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌کیا تھا. ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔


نقیب اللہ محسود کا دوست ڈی آئی خان میں قتل


البتہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں‌ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں