The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس پنڈی اسپتال کا جائزہ لینے آئے تھے، میری الیکشن مہم چلانے نہیں، شیخ رشید

کل میں کسی کی بھی انتخابی مہم میں نہیں گیا، میرا شیخ رشید صاحب سے کوئی سیاسی تعلق نہیں، کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس

اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کل ویمن چلڈرن اسپتال کا جائزہ لینے آئے تھے، ان کی الیکشن مہم چلانے کے لیے نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سپریم کورٹ میں جاری کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، کہا چیف جسٹس نے خود واضح کیا کہ دورے کا مقصد شیخ رشید کے لیے مہم چلانا نہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ 18 ماہ کے اندر ویمن چلڈرن اسپتال آپریشنل ہوجائے گا، آج سے اسپتال پر کام شروع ہو گیا ہے، لوگ ناک میں تکلیف کے لیے بھی لندن علاج کے لیے چلے جاتے ہیں۔

قبل ازیں پنڈی اسپتال کیس کی سماعت کے دوران شیخ رشید نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے سالوں پرانا کام مکمل کرایا ہے، سوشل میڈیا پر ایک خاص طبقہ آپ کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کل میں کسی کی بھی انتخابی مہم میں نہیں گیا، میرا شیخ رشید صاحب سے کوئی سیاسی تعلق نہیں، ہم سپریم کورٹ کی جانب سے اسپتال گئے تھے، کسی کی مہم کے لیے نہیں لوگوں کے لیے گئے۔

ویمن چلڈرن اسپتال کیس کی سماعت


دریں اثنا سپریم کورٹ میں راولپنڈی کے زچہ و بچہ اسپتال کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کمیٹی روم میں کی۔ سماعت کورٹ روم نمبرایک میں ہونی تھی تاہم چیف جسٹس کی طبیعت کی نا سازی کی وجہ سے  کمیٹی روم میں کی گئی۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اسپتال کی تعمیر کے لیے اٹھارہ ماہ کا وقت مانگا، چیف جسٹس نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کو تاکید کی کہ کام کے سلسلے میں کوئی ناانصافی نہ ہو اور کام جائز طریقے سے کیا جائے۔

مائیں بہنیں چیف جسٹس کے لیے دعا کریں، شیخ رشید


ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسپتال کی تعمیر کے معاملے پر ایک دو دن میں کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو اسپتال کی مشینری کی خریداری و دیگر معاملات دیکھے گی، پہلے اسپتال کے 3 آپریشن تھیٹر تھے، اب 14 ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسپتال کی تکمیل کے لیے شراکت داروں نے یقین دہانی کرائی ہے، سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار خواجہ داؤد کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے اور اسپتال کی تعمیرسے متعلق ماہانہ رپورٹ جمع کرائی جائے، اسپتال کا تخمینہ 5 اعشاریہ 3 ارب روپے ہے اس لیے وزارتِ خزانہ سے پریشانی آ سکتی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں