العزیزیہ کیس: شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں سماعت، گواہوں کے بیان قلم بند NAB
The news is by your side.

Advertisement

العزیزیہ ضمنی ریفرنس: شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں سماعت، گواہوں کے بیان قلم بند

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ضمنی ریفرنس کی سماعت ہوئی، اس دوران اہم گواہوں نے بیان قلم بند کروائے۔

تفصیلات کے مطابق سماعت میں استغاثہ کی گواہ نورین شہزادی نے سابق وزیراعظم کے صاحب زادے حسین نواز کے جون 2010 سے اپریل 2017 تک کی اکاؤنٹ کی تفصیلات پیش کیں۔

جرح کے دوران گواہ نورین نے بتایا کہ ’’تفتیشی افسر نے مجھ سے اصل دستاویزات کے بارے میں پوچھا، تفصیلات نہ میں نے تیار کی تھیں، نہ میرے سامنے تیار کی گئیں، جو دستاویزات ہیڈ آفس سے موصول ہوئیں وہی پیش کیں۔‘‘

خواجہ حارث نے سوال کیا، کیا تفتیشی افسر نے پوچھا تھا کہ اصل دستاویزات کہاں اور کس کی تحویل میں ہیں؟ گواہ نے کہا کہ انہوں نے بتا دیا تھا کہ آرکائیوز آفس کراچی میں ہے۔ جرح کے دوران گواہ نے مزید بتایا کہ نواز شریف کا اکاؤنٹ اگست 2009 میں کھولا گیا۔ اکاؤنٹ کھولنے کے فارم میں نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز کا سی ای او لکھا گیا۔

سماعت کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب راولپنڈی وقار احمد، گواہ شیر خان کا بیان قلم بند ہوا۔ خواجہ حارث نے استغاثہ کے گواہ فنانس ایکسپرٹ شیرخان پراعتراض کیا اور موقف اختیار کیا کہ فنانس ایکسپرٹ بطور گواہ پیش نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ رابرٹ ریڈلے بھی ایکسپرٹ تھا، اس کا بیان بھی قلم بند کیا گیا۔


العزیزیہ کیس: نیب کو ضمنی ریفرنس کے شواہد مل گئے


احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ بیان کے بجائے ایکسپرٹ تفتیشی کی مدد کرتا، تو بہترتھا۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ 2010 سے 2017 تک کئی ملین کی ٹرانزکشن ہوئیں، اس پرمنافع کی شرح کے لیے ایکسپرٹ کی ضرورت تھی۔

شیر خان نے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں اور موقف اختیار کیا کہ اسے دونوں بینک اکاؤنٹس کا موازنہ کرنے کے لئے ذمے داری سونپی گئی تھی۔


نا اہل نوا زشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ریفرنس کی سماعت شروع


گواہ سے ڈی جی نیب عرفان منگی سے متعلق سوال کیا گیا۔ خواجہ حارث کےسوال پر نیب پراسیکیوشن نے اعتراض اٹھایا۔ اس موقع پر وکیل نے سوال کیا کہ عرفان منگی کی تعیناتی کاکیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے؟

گواہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کیس سےمتعلق معلوم نہیں، جب ہل میٹل کےنیٹ پرافٹ کی رپورٹ تیار کی تب عرفان منگی ڈی جی تھے اور حسین نواز اور نوازشریف کے اکاؤنٹس کی رپورٹ تیار کی گئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں