نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت -
The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت

اسلام آباد : احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے سماعت کے آغاز پرسوال کیا کہ کسی گواہ نے کہا نوازشریف نے باہرسے ملنے والی رقوم ظاہرنہیں کیں؟۔

نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا کیس ہی نہیں ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے بتانا ہے بے نامی کی بات نہیں ہے سب ظاہرکیا گیا ہے جس پرنیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ آپ بحث برائے بحث کررہے ہیں۔

احتساب عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب تفتیشی جواب لکھوا دیں، تفتیشی افسر نے کہا کہ میں نے کسی کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا۔

محبوب عالم نے کہا کہ میں نے قطری شہزادے حماد بن جاسم کوشامل تفتیش نہیں کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روزخواجہ حارث نے سابق وزیراعظم کی آج کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا تھا۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ کیا کسی گواہ نے بتایا نواز شریف نے رقوم بھیجیں جس پر استغاثہ کے گواہ نے جواب دیا تھا کہ نہیں کسی گواہ نے نہیں بتایا۔

نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا تھا کہ کیا 1999سے 2013 تک نوازشریف سرکاری عہدے پررہے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا تھا کہ 1999سے2013 تک نوازشریف سرکاری عہدے پرنہیں رہے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ کوئی ایسا اکاؤنٹ ملا جس سے نوازشریف نے بیٹوں کورقم بھیجی ہو؟ جس پر استغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ نہیں ایسا کوئی اکاؤنٹ سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں تمام گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکے ہیں اورتفتیشی افسر پرجرح جاری ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی افسر کا بیان قلمبند ہونا باقی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں