The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد : احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت سے قبل وکیل زبیرخالد نے اخبار کی خبرپرنوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ منسٹر ہے جو آپ اورنوازشریف کی گرفتاری سے متعلق بیان دے رہا ہے۔

معاون وکیل زبیرخالد نے کہا کہ عدالت کو سوموٹو لینا چاہیے، جج ارشد ملک نے کہا کہ میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں، آپ پر302کا کیس ہو تو آپ بھی کہنا شروع کردیں بری ہوجائیں گے۔

احتساب عدالت نے نوازشریف کے وکلا کو باقاعدہ درخواست دائرکرنے کی ہدایت کردی۔

واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ گلف اسٹیل کے معاہدے میں طارق شفیع اور محمد حسین شراکت دارتھے، محمد حسین کا انتقال معاہدے پرعملدرآمد سے پہلے ہی ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ طارق شفیع نے کہا وہ محمد حسین کے بعد بیٹے شہزاد حسین سے ملے تھے، ہم نے محمد حسین کے بیٹے شہزاد حسین کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ طارق شفیع کے مطابق محمد حسین مرحوم برطانوی شہری تھے، طارق شفیع سے پوچھا تھا ان کے پاس شہزاد حسین کا رابطہ نمبرہے؟۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ طارق شفیع نے کہا ان کے پاس شہزاد حسین کا کوئی رابطہ نمبر نہیں، یہ کہنا غلط ہوگا کہ طارق شفیع کے بیان سے متعلق غلط بیانی کر رہا ہوں۔

واجد ضیاء نے کہا کہ محمدعبداللہ آہلی کو شامل تفتیش نہیں کیا، 14اپریل 1980 کے معاہدے کی تصدیق کے لیے عبداللہ سے رابطہ نہیں کیا، ہمارے نوٹس میں آیا معاہدے کے گواہان میں عبدالوہاب کا نام شامل ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے فواد چوہدری کے نوازشریف کو سزا دینے سے متعلق بیان کا اخباری تراشہ اور قانونی نکات پیش کیے۔

معاون وکیل نے کہا کہ عدالت کواپنے وقارکے دفاع کا مکمل قانونی اختیارہے، معاملے پرہمیں پارٹی بننے کی ضرورت نہیں، دونوں فریقین معاملے پرعدالت کی معاونت کریں گے۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ معاملے پردرخواست دینے سے متعلق آپ مشاورت کرلیں جس پر معاون وکیل نے کہا کہ پیرکودرخواست سے متعلق مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب نے کہا کہ ہمارا توکیس ہی نوازشریف کوسزا دلوانا ہے، ٹی وی چینل پربیانات دینا وزرا کا ذاتی معاملہ ہے۔

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے دوران واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ حسن نوازسے فنانشل اسٹیٹمنٹ کے بارے میں پوچھا تھا، حسن نوازنے کہا تھا فنانشل اسٹیٹمنٹ ان کےاکاؤنٹینٹ نے تیارکیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا تھا کہ حسن نوازنے کہا فنانشل اسٹیٹمنٹ پوری طرح نہیں پڑھی، کوئنٹ پنڈگٹن کی فنانشل اسٹیٹمنٹ کس نے تیارکی یہ نہیں پوچھا۔

واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ حسن نوازکے کسی اکاؤنٹینٹ کوشامل تفتیش نہیں کیا، حسن نوازنے کہا کیپٹل ایف زیڈ ای کے لیے رقم کا انتظام انہوں نے کیا، حسن نوازکے مطابق یہی رقم بعد میں کوئنٹ پنڈگٹن کودی گئی۔

چیف جسٹس کی نواز شریف کےخلاف ریفرنس نمٹانے کیلئےاحتساب عدالت کو 17 نومبر تک کی مہلت

یاد رہے کہ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف العزیز یہ اور فلیگ شپ ریفرنس نمٹانے کے لیےاحتساب عدالت کو سترہ نومبر تک کی مزید مہلت دی تھی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد کوئی توسیع نہیں دی جائے گی سترہ نومبر تک کیسوں کا فیصلہ نہ ہوا تو عدالت اتوار کو بھی لگے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں