سانحہ ماڈل ٹاؤن: پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کے لیے نیا فل بینچ تشکیل -
The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن: پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کے لیے نیا فل بینچ تشکیل

لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں حکومتی اپیل کی سماعت کے لیے قائم بینچ کے ایک رکن جسٹس یاور علی نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی جس کے بعد اپیل پر سماعت کے لیے نیا فل بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مرنے والوں کے لواحقین اور متاثرین کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا حکم دیا تھا۔

اسی روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی گئی۔

اس حکومتی اپیل کی سماعت کے لیے قائم 3 رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس یاور علی نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی تھی۔ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس انوار الحق اور جسٹس عبد السمیع شامل ہیں۔

تاہم پرانے بینچ کی تحلیل کے بعد لاہورہائیکورٹ نے نیا فل بینچ تشکیل دے دیا جس کی سربراہی جسٹس عابد عزیز شیخ کریں گے۔

فل بنچ کے دیگر اراکین میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شہباز رضوی شامل ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کا فل بینچ آج پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کرے گا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس سے متعلق ایک اور سماعت میں آج صبح ہائیکورٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست بھی قابل سماعت قرار دے دی ہے۔

مذکورہ درخواست میں وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ اور مشتاق سکھیرا کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ہائیکورٹ نے 2 ہفتے میں وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی رپورٹ عام نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: ماڈل ٹاؤن رپورٹ عام نہ کرنے پر توہین عدالت درخواست دائر

واضح رہے کہ 3 سال قبل لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے منہاج القرآن مرکز کے ارد گرد سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر آپریشن کیا گیا جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان سخت مزاحمت ہوئی۔

اس دوران پولیس کے شدید لاٹھی چارج کے سبب 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں