نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سخت سیکیورٹی حصار میں لیکر اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت پہنچی۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز پر سماعت کی۔

عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کے تفتیشی افسر کو آج طلب کیا تھا۔ ریفرنس میں آخری گواہ یعنی نیب کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ نواز شریف سنہ 81 سے2017 تک اہم عہدوں پر فائز رہے۔ نواز شریف، شریف خاندان کے سب سے با اثر شخص تھے۔ حسن اور حسین نواز نواز شریف کے زیر کفالت تھے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ سال 2000 تک حسن اور حسین نواز کے ذرائع آمدن نہیں تھے۔ نواز شریف نے حربے کے طور پر خاندان کے نام شیئرز رکھنا شروع کیے۔ 2002 – 2001 تک اثاثوں کی مالیت 50.49 ملین ڈالرز کو عبور کر چکی تھی۔

گواہ نے بتایا کہ ملزمان نے بیرون ملک جائیداد ظاہر کی نہ رقم منتقل کرنے کا طریقہ بتایا، حسین نواز العزیزیہ اور ہل میٹل کی ملکیت تسلیم کرتے رہے ہیں، جائیدادوں سے مریم اور حسن نواز کو مالی فوائد حاصل ہوئے۔

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان کی بتائی ہوئی منی ٹریل من گھڑت کہانی نکلی۔ نواز شریف کا یہ مؤقف درست نہیں کہ جائیدادوں کا علم نہیں، یو اے ای کے جواب سے ملزمان کا مؤقف غلط ثابت ہوا۔ تفتیش سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 1.2 اور 10 ملین ڈالرز کی دو ٹرانزیکشن ہل میٹل سے ہوئی، رقوم نجی بینک کی واپڈا ٹاؤن اور گلبرک لاہور میں آئیں۔ آڈٹ کے مطابق ہل میٹل کا 88 فیصد منافع نواز شریف کے اکاؤنٹ میں آیا۔

ان کے مطابق مریم نواز کے اکاؤنٹ میں 59.256 ملین روپے آئے۔ 1 اعشاریہ 5 ملین روپے حسن کے اکاؤنٹ میں آئے۔ بچوں کے ذرائع آمدن نہیں تھے وہ نواز شریف کے بے نامی دار تھے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ تمام اثاثے نواز شریف کے معلوم ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 19 اگست 2017 کو میں نے پہلی تفتیشی رپورٹ جمع کروائی۔ رپورٹ کے ساتھ میں نے ریفرنس دائر کرنے کی تجویز دی، چیئرمین نیب نے رپورٹ کے بعد ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد بھی میں نے تفتیش جاری رکھی۔

گواہ کا بیان مکمل ہونے کے بعد احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ خواجہ حارث سے پتہ کرلیں وہ کب دستیاب ہوں گے، خواجہ حارث کی دستیابی پر آئندہ سماعت رکھیں گے۔

ریفرنس کی مزید سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 11، مریم نواز کو 8 اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز 13 جولائی کو جب لندن سے وطن واپس لوٹے تو دونوں کو لاہور ایئرپورٹ پر طیارے سے ہی گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں