The news is by your side.

Advertisement

انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت، پولیس افسران کے بیانات قلمبند

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی، کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا، زبیر چریا ودیگر عدالت میں پیش ہوئے، مختلف تھانوں کے پانچ پولیس افسران کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی، گواہ پولیس افسران کا کہنا تھا کہ بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد لاشوں کو جمع کیا گیا، بیشتر لاشیں بری طرح جھلس چکی تھیں۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں اب تک 65 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں، عدالت نے 21 جولائی کو مزید گواہوں کو طلب کرلیا ہے

پولیس افسران نے بیانات قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ بیشتر لاشوں کو ٹکڑوں کی صورت میں حاصل کیا گیا، کسی لاش کی ٹانگ او رکسی کے بازو حاصل کیے گئے، جسم کے ایک حصے کو بھی لاش تصور کیا گیا۔

گواہ کے مطابق کئی لاشوں کی شناخت موبائل فون ریکارڈ سے کی گئی، لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا۔

واضح رہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں اب تک 65 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں جبکہ عدالت نے 21 جولائی کو مزید گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاوٗن میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ڈھائی سو کے لگ بھگ ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک’پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں