The news is by your side.

Advertisement

آن لائن کام کرنے والوں کو اہم مشورہ

کراچی: ناک، کان اور حلق سے متعلق امراض کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا بھر میں 2050 تک سماعت کے مسائل کے شکار افراد کی تعداد 900 ملین یعنی 90 کروڑ ہو جائے گی، جو آج یعنی 2022 میں سماعت کے امراض میں مبتلا افراد 450 ملین سے دگنی ہوگی۔

تین مارچ کو عالمی یوم سماعت پر ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس اور رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی میں منعقدہ سیمینارز میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں سماعت سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے کی وجہ شور کی آلودگی ہے، جسے کنٹرول کیے بغیر ہم سماعت سے متاثرہ افراد کی تعداد کم نہیں کر سکتے، ڈبلیو ایچ او نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جلد ہی دنیا میں 1 ارب افراد سماعت کے مسائل کا شکار ہونے والے ہیں۔

ماہرین ِ صحت نے کہا کہ دنیا میں عالمگیر وبا کرونا کے باعث گھر بیٹھے آن لائن کام کرنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ آن لائن کام کرنے والے افراد میں اکثر سماعت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، ماہرین نے آن لائن کام کرنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ کام کے دوران ہر گھنٹے بعد 10 منٹ کا وقفہ ضرور کریں۔

ماہرین نے انکشاف کیا کہ ہینڈز فری اور ہیڈ فون وغیرہ کا استعمال لاؤڈ اسپیکر کے مقابلے میں سماعت کے لیے زیادہ خطرناک ہے، کیوں کہ لاؤڈ اسپیکر سے سننے کے دوران توجہ کسی اور جانب مبذول ہو سکتی ہے، جب کہ ہینڈز فری اور مائیکرو فون سے ساری توجہ ایک ہی جانب رہتی ہے اور سماعت پر مسلسل پریشر پڑتا ہے اور وقفہ نہیں آتا۔

ناک، کان اور حلق کے امراض کے ماہرین نے کہا کہ ہمارے یہاں شور کی آلودگی سے متاثرہ افراد کی کی فوری تشخیص نہیں ہو پاتی، سننے کی صلاحیت متاثر ہونے کے باعث لوگ عام افراد کی بات سن نہیں پاتے، تو سمجھ بھی نہیں پاتے اور پھر رد عمل کا اظہار بھی نہیں کرتے جس سے لوگ سماعت سے متاثرہ افراد کے متعلق طرح طرح کے تاثر قائم کر لیتے ہیں، کوئی انھیں کوڑھ مغز اور کوئی مغرور یا کام چور وغیرہ سمجھ لیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پانچ سال کی عمر کے بعد سماعت سے محروم بچوں کے علاج میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جب کہ بڑی عمر کے افراد سماعت کے آلات کو معیوب سمجھتے ہیں اور دوسری وجہ ان آلات کا مہنگا ہونا بھی ہے۔ ماہرین نے حکومت سے اپیل کی کہ ہیئرنگ ایڈ یا سماعت کے آلات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات کریں یا پھر لوگوں کو کم قیمت پر یا سرکاری خرچ پر فراہم کریں۔

ماہرین نے مزید کہا کہ انسانوں کی ایجاد کی گئی مشینوں سے ایک طرف انسانوں کو سہولت ملی ہے تو دوسری جانب شور کی آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، دیگر ممالک نے سخت معیارات بنا کر اس آلودگی کو کم کر لیا لیکن ہمارے جیسے ممالک میں شور کی آلودگی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے، کراچی میں شور کی آلودگی تبت سینٹر پر بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کان پر تمانچا مارنے یا ہوائی فائرنگ یا سائلنسر کے بغیر بائیک کا شور سننے سے سماعت اچانک متاثر ہو سکتی ہے۔

اوجھا کیمپس او پی ڈی بلاک میں سیمینار سے ڈاکٹر سلمان مطیع اللہ، ڈاکٹر سلمان احمد، ڈاکٹر مرتضی احسن، پروفیسر عاطف حفیظ صدیقی اور پروفیسر اوصاف احمد نے خطاب کیا۔ جب کہ سول اسپتال کے ای این ٹی وارڈ میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نور محمد سومرو، ڈاؤ میڈیکل کالج کی پرنسپل پروفیسرصبا سہیل اور ای این ٹی وارڈ کی سربراہ پروفیسر زیبا احمد نے خطاب کیا۔ قبل ازیں ماہرین صحت اور اسٹاف اوجھا کیمپس میں اوٹی کمپلیکس سے او پی ڈی بلاک تک، اور سول اسپتال میں واک کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں