پیر, مئی 18, 2026
اشتہار

”میرا جسم گرم لوہے کی طرح تپ رہا تھا“

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے شعبۂ امراضِ نسواں کے کلینک کے اندر فضا باہر کے مقابلے میں کئی درجے زیادہ گرم محسوس ہو رہی تھی۔ یہ فروری کے آخری ایام تھے اور جمعے کی صبح صرف ساڑھے نو بجے تھے، مگر کھڑکیوں سے محروم انتظار گاہ پہلے ہی خواتین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، ان میں سے کئی ایک بیٹھنے کی جگہ کے لیے دھکم پیل کر رہی تھیں، کوئی نرسوں کو مدد کے لیے پکار رہی تھی، اور کوئی الٹرا ساونڈ کے حصول کے لیے تگ و دو میں مصروف تھی۔

بڑھتا ہوا درجۂ حرارت حاملہ خواتین کے لیے تشویش اور حقیقی خطرات کو جنم دے رہا ہے، جب کہ فلاحی ادارے اس حوالے سے بہتری کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کر رہے ہیں۔

آسیہ، جن کی عمر 21 سال اور وہ تیسرے بچے کی ماں بننے والی تھیں۔ اس بچے کی پیدائش مئی میں متوقع تھی، جب کراچی کا عمومی درجۂ حرارت اکثر 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب 70 فیصد سے بھی بڑھ جاتا ہے، جس سے گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ جیسے ہی کلینک کے اس کمرے کا درجۂ حرارت بڑھا، آسیہ کو متلی اور چکر محسوس ہونے لگے۔

“”یہ گرمی مجھے نڈھال کر دیتی ہے،” انہوں نے کہا۔ “میرا جسم کسی گرم لوہے کی طرح تپنے لگتا ہے، مجھ سے بمشکل کچھ کھایا جاتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا بچہ بیمار پیدا نہ ہو۔”

آسیہ لیاری میں رہتی ہیں، جو کراچی کے سب سے گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں تنگ گلیاں ہیں اور سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے گھر کے اندر ہوا کی آمد و رفت نہایت محدود ہے اور ٹھنڈک کا کوئی موثر انتظام نہیں۔ یہی حال پورے محلے کا ہے جہاں گرمیوں کی شدید تپش بجلی کی طویل بندش سے اور بھی بڑھ جاتی ہے، جو روزانہ 12 گھنٹے تک جاری رہتی ہے، جس کے باعث پنکھے اور دیگر آلات بند ہو جاتے ہیں جو کسی حد تک راحت فراہم کر سکتے تھے۔

“”دو سال پہلے اپنے پچھلے حمل کے دوران، میں دن میں تین بار نہاتی تھی تاکہ خود کو ٹھنڈا رکھ سکوں، کیونکہ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میرا بچہ بے چینی سے حرکت کر رہا ہے،” انہوں نے ڈائیلاگ ارتھ کو بتایا۔

کراچی کی شامیں عموماً خوش گوار ہوتی ہیں، جب درجۂ حرارت کم ہو کر تقریباً 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک آ جاتا ہے اور سمندری ہوا اسے مزید معتدل بنا دیتی ہے۔ مگر آسیہ کے لیے یہ بھی زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ وہ پردہ کرتی ہیں اور جب باہر نکلتی ہیں تو عبایا پہنتی ہیں، ایک ڈھیلا مگر بھاری لباس، جو اکثر پولیسٹر سے بنا ہوتا ہے۔

“میرے شوہر مجھے کھڑکی کے پاس بھی کھڑا ہونے نہیں دیتے۔”

گرمی، عدم مساوات اور حمل
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی، جہاں 2 کروڑ سے زائد افراد آباد ہیں، آنے والے برسوں میں شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے کا امکان ہے، عالمی حدت کے اندازوں کے مطابق درجۂ حرارت میں مزید 2 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے۔ 2024 میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا تھا، اورہوا میں موجود زیادہ نمی کے ساتھ مل کر ایسے حالات پیدا ہوئے جو انسانوں کے لیے ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئے۔

شہری علاقوں میں درجۂ حرارت آس پاس کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، جس کی بڑی وجہ ”اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ“ کی تشکیل ہے۔ یہ صور ت حال صحت کے سنگین مسائل کو جنم دیتی ہے، جن میں ہیٹ اسٹروک، سانس اور دل کی بیماریاں، ذہنی صحت کے مسائل، اور بعض صورتوں میں اموات بھی شامل ہیں۔

کراچی، شہرمیں بڑھتی حرارت اور حمل سے منسلک متعدد باہم جڑے ہوئے مسائل کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہاں فضا میں نمی کی سطح بلند رہتی ہے، جبکہ درختوں اور سبزہ زاروں کی شدید کمی ہے۔ شہر کی نصف سے زیادہ آبادی گنجان علاقوں اور بے قاعدہ طور پر بسی ہوئی بستیوں میں رہتی ہے۔ خواتین میں زیادہ شرحِ پیدائش اور مانع حمل ادویات کے استعمال کے کم رحجانات کے ساتھ ساتھ قبل از پیدائش مسائل سے نمٹنے کی ناکافی سہولیات بھی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

واضح شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران حمل شدید گرمی پیچیدگیوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے، جو ماں اور بچے دونوں کے لیے منفی نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان میں قبل از وقت پیدائش، کم وزن والے بچوں کی پیدائش، اور بچوں کا مردہ پیداہونا شامل ہیں۔ یہ خطرات خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں زیادہ ہوتے ہیں، جہاں خواتین کے پاس بلند درجۂ حرارت سے بچاو کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں، جیسے نسبتاً سستے پنکھے یا ائیر کنڈیشنر خریدنے کی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی۔

اور کراچی عدم مساوات سے بھرا ہوا شہر ہے۔ امیر طبقے کے پاس جنریٹرز اور شمسی توانائی کے نظام تک رسائی ہے، جس کے باعث بجلی کی بندش کے دوران بھی ان کے ایئرکنڈیشنر چلتے رہتے ہیں، جب کہ آسیہ کے علاقے جیسے غریب محلّوں میں صورت حال مختلف ہے۔ وہاں گرمیوں کے دنوں میں عموما طلب و رسد کے بڑھتے ہوئے فرق کے باعث لوڈشیڈنگ 22 گھنٹے تک جاری رہتی ہے، جس میں لوگ مکمل طور پر بجلی سے محروم رہتے ہیں۔

کم آمدنی والے طبقے کو قابلِ اعتماد صحت کی سہولیات کی شدید کمی کا بھی سامنا ہے۔ 2020 کی صوبائی محتسب کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کراچی میں 1974 کے بعد کوئی نیا سرکاری اسپتال قائم نہیں کیا گیا، اور موجودہ سرکاری اسپتالوں میں دستیاب خدمات کے معیار نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور اب لوگ ان اسپتالوں پر “ بھروسا نہیں کرتے”۔

خواتین کا حمل سے ہونا اس تمام منظرنامے میں ایک اضافی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ انیس سالہ سویرا نے گزشتہ سال جولائی میں اپنے پہلے بچے کو جنم دیا۔ دو ہفتے بعد ایک گرم دوپہر میں اسے محسوس ہوا کہ بچے کا جسم غیر معمولی طور پر گرم ہو رہا ہے۔ اس کے 400 مربع فٹ کے تنگ اور کم ہوا دار فلیٹ میں بجلی موجود نہیں تھی۔

سویرا نے بچے کو پنکھے سے ہوا دینے کی کوشش کی، اور پھر مایوسی میں بچے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے گیلے تولیے میں لپیٹ دیا۔

“بعد میں ڈاکٹر نے مجھے ڈانٹا، کیونکہ اس سے نمونیا ہو سکتا تھا،” اس نے ڈائیلاگ ارتھ کو بتایا۔ “مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اور کیا کرتی۔”

نچلی (عوامی) سطح کی تنظیمیں میدان میں آ گئیں
اگرچہ اس بات کے شواہد تیزی سے سامنے آ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی گرمی حمل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، مگر “ماما بے بی فنڈ” نامی غیر منافع بخش ادارہ چلانے والی دایہ (مڈ وائف) نہا منکانی کے مطابق زمینی حقائق کئی مطالعات اور تحقیقاتی جائزوں سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

بابا آئی لینڈ میں واقع اپنے کلینک،جو کراچی کے ساحل سے متصل محض 0.15 مربع کلومیٹر پر پھیلی ایک بستی ہے اور دنیا کے گنجان ترین جزیروں میں شمار ہوتی ہے، میں نہا منکانی نے حمل کے دوسرے سہ ماہی میں اسقاط حمل کے واقعات کو تشویش ناک حد تک بڑھتے دیکھا ہے۔

نوزائیدہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر، سانس کی بیماریوں اور اعصابی مسائل کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ منکانی کے مطابق جزیرے پر تقریباً ہر دوسرا بچہ ان میں سے کسی نہ کسی مسئلے کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے۔

منکانی کا کلینک اس جزیرے پر خواتین کے لیے زچگی، نوزائیدہ بچوں اور امراض نسواں کی دیکھ بھال فراہم کرنے والا واحد مرکز ہے، جو ایک نہایت مشکل صورت حال میں کام کررہا ہے۔

یہاں مقامی افراد کو شدید گرمی کا سامنا ہے، جہاں گرمیوں کے بعض دنوں میں “محسوس ہونے والا” درجۂ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ انہیں پینے کے صاف پانی کی باقاعدہ فراہمی میسر نہیں، بجلی نہایت محدود ہے، اور درختوں یا سبزے کا بھی شدید فقدان ہے۔

سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث بابا آئی لینڈ پر اکثر سیلابی صورت حال پیدا رہتی ہے۔ آلودہ پانی سے پھیلنے والی اور جلدی بیماریاں عام ہیں۔

خواتین خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں، کیونکہ وہ غیر متناسب طور پر گرمی کا سامنا کرتی ہیں۔ عموماً کھانا پکانے کی ذمے داری ان ہی پر ہوتی ہے، جو وہ چھوٹے کمروں میں کھلی آگ پر انجام دیتی ہیں، جہاں نہ پنکھے ہوتے ہیں اور نہ ہی ہوا کی آمد و رفت کا کوئی مناسب انتظام۔

ان خواتین کے لیے منکانی کا کلینک ایک پناہ گاہ جیسا ہے جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ پنکھے کے نیچے کچھ دیر سکھ کا سانس لے سکتی ہیں اور صاف پانی تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں

2022 سے منکانی جزیرے کی خواتین میں “سمر کیئر پیکجز” تقسیم کر رہی ہیں۔ ان پیکجز میں دیگر اشیاء کے ساتھ سوتی کپڑے اور کپڑے کے ڈائپر شامل ہوتے ہیں تاکہ جسم کو ہوا مل سکے، ایسے تولیے جو گیلا کر کے جلد پر رکھے جا سکیں، پانی کے اسپرے کی بوتلیں، ری ہائیڈریشن سالٹس، اور پلاسٹک کے ہاتھ سے چلنے والے پنکھے بھی شامل ہوتے ہیں۔

ماما بے بی فنڈ جیسی تنظیمیں سرکاری سرپرستی کی کمی سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔

اس سال شائع ہونے والی Amnesty International کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان کا نظامِ صحت اپنی آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو رہا ہے، خاص طور پر کم عمر بچوں اور بزرگوں کے لیے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشان دہی کی گئی کہ ہیٹ ویوز اور سیلاب سے متاثر ہونے والے جن افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئیں، ان میں سے کئی کو بروقت طبی امداد یا احتیاطی اقدامات کے ذریعے بچایا جا سکتا تھا۔

جوں جوں موسمیاتی آفات شدت اختیار کر رہی ہیں، ضروریات اور دستیاب سہولیات کے درمیان یہ خلا مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ ماہ منکانی کراچی میں موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں خواتین اور بچوں کی صحت سے متعلق ایک پینل کا حصہ تھیں

آخر میں، سامعین میں سے ایک فرد کھڑا ہوا اور بابا آئی لینڈ کی خواتین کو بے شمار نظامی عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ان کی ثابت قدمی پر سراہا۔ اس پر منکانی نے مداخلت کی۔

“ہم کمزور برادریوں سے ثابت قدم اور مضبوط رہنے کی توقع کیوں رکھتے ہیں؟” انہوں نے سامنے بیٹھے لوگوں سے سوال کیا۔ “ہم ان حالات پر سوال کیوں نہیں اٹھاتے جنہوں نے انہیں مجبوراً مضبوط اور ثابت قدم بنایا ہے؟ یہ مجبور ثابت قدمی کوئی اعزاز نہیں ہے۔”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

(زوہا صدیقی کی یہ رپورٹ ڈائلاگ ارتھ پر شایع ہوچکی ہے جس کا ترجمہ شبینہ فراز نے کیا ہے)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں