The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں پھر ہیٹ ویو کا امکان

کراچی: صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی رواں برس مئی اور جون میں ایک بار پھر ہیٹ ویو کا نشانہ بن سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مئی اور جون میں گرمی میں اضافے کا الرٹ جاری کردیا۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا ہے کہ شہر قائد مئی اور جون میں شدید گرمی کی لپیٹ میں آجائے گا اور ان 2 ماہ میں موسم خشک رہے گا۔

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق کراچی میں درجہ حرارت 2 سے 3 مرتبہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کراچی میں گرمی بڑھنے اور ہیٹ ویو کے خطرہ کی صورت میں 3 روز قبل الرٹ جاری کرے گا۔

مزید پڑھیں: ہیٹ اسٹروک کی وجوہات، علامات اور بچاؤ

یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے سال کے آغاز میں ہی انتباہ کردیا تھا کہ رواں برس ملک میں موسم گرما اپنے مقررہ وقت سے قبل آجائے گا۔

ڈاکٹر غلام رسول کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کے اثرات گزشتہ برس اگست کے بعد سے واضح طور پر سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔

کلائمٹ چینج ہی کی وجہ سے اس بار موسم سرما کے معمول میں تبدیلی ہوئی اور جنوری کے آخر میں شدید سردیوں کا آغاز ہوا۔ اب جبکہ موسم گرما اپنے عروج پر ہے تو اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: کلائمٹ چینج سے مطابقت کیسے کی جائے؟

مزید پڑھیں: گلوبل وارمنگ کم کرنے کے طریقے

ماہرین متفق ہیں کہ کلائمٹ چینج کی وجہ سے کراچی میں ہیٹ ویو اب ہر سال معمول کی بات بن جائے گی اور اس سے مطابقت کرنے کے لیے حکومت اور عام افراد کو فوری طور پر طویل المدتی اقدامات کرنے ضروری ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں بھی کراچی کو گرمی کی قیامت خیز لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں 1 ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

اسلام آباد بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں

ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی کلائمٹ چینج کے اثرات ظاہر ہورہے ہیں اور وہاں بھی گرمی میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں سنہ 2006 میں درجہ حرات 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا اور یہ اپریل کے آخر میں ہوا تھا۔

تاہم رواں برس اپریل کے وسط میں ہی اسلام آباد کا درجہ حرات 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔

مزید پڑھیں: سال 2016 تاریخ کا متواتر تیسرا گرم ترین سال

ماہرین اس گرمی میں اضافے کی وجہ موسمی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج اور اس کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے یعنی گلوبل وارمنگ کو قرار دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ کلائمٹ چینج کے نقصانات کا سامنا کرنے کے حوالے سے پاکستان پہلے 10 ممالک میں شامل ہے اور اس کا سب سے بدترین نقصان پورے ملک کے درجہ حرارت میں اضافہ ہے جو پانی کے ذخائر اور زراعت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں