اسلام آباد(02 اکتوبر 2025): اسلام آباد ہائیکورٹ میں موٹر وے پر ہیوی بائیکس پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکام نے کہا کہ ہیوی بائیکس چلانے کی اجازت دینے سے پہلے تمام لوگوں کو ٹریننگ دی جائے گی۔
موٹر وے حکام نے کہا ہیوی بائیکس چلانے کی ٹریننگ شیخوپورہ اور اسلام آباد میں قائم کردہ سینٹرز میں دی جائے گی، متعلقہ فریق ہمیں اپنے لوگوں کی رجسٹریشن اور لائسنز مہیا کرے۔
اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی، درخواست گزار کی طرف سے وکیل زینب جنجوعہ عدالت کے روبرو پیش ہوئیں جب کہ اسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن اور موٹر وے پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل زینب جنجوعہ نے کہا عدالت نے کمشن بنانے کا بولا جو بن گیا تھا اور ستمبر میں 2 میٹنگز بھی ہوئی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا اس وقت جو سب سے بہتر ادارہ کام کر رہا وہ موٹروے پولیس ہے، ہم ایک ڈائریکشن دے دیتے ہیں تاکہ آپ اس پر میٹنگ کریں۔
ای چالان ! موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان ہوشیار ہوجائیں
جسٹس محسن نے کہا جو یہاں موٹر وے والے آتے ہیں شاید آپ کو اندازہ نہیں ہوگا کہ ان کو کہاں کہاں جواب دینا ہوتا ہے، یہ اوپر جا کر جب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے کچھ کرتے ہیں اور ان کو ڈانٹ سننی بھی پڑتی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل زینب جنجوعہ سے استفسار کیا کہ آپ کے کلائنٹ کی عمر کتنی ہے؟ وکیل نے بتایا ان کی عمر 60 سال ہے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے کلائنٹ تو ابھی نوجوان ہیں، اس پر عدالت میں قہقہے بلند ہو گئے۔
عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔


