site
stats
پاکستان

کراچی : مون سون سسٹم بھارت سے سندھ میں داخل، دوپہر 2بجے کے بعد سے موسلادھار بارش کاامکان

کراچی : شہر قائد کے مختلف علاقوں میں بونداباندی شروع ہوگئی جبکہ آج گرج چمک کیساتھ موسلادھاربارش کا امکان ہے، شدید بارش سے اربن فلڈ بھی آسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بونداباندی کا سلسلہ جاری ہے ، شہر میں حبس کا راج ہے اور موسم ابرآلود ہے، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آج دوپہر 2بجے کے بعد سے موسلادھار بارش کاامکان ہے ، 2بجے شروع ہونیوالابارش کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہے گا۔

ڈائریکٹرمیٹ عبدالرشید کا کہنا ہے کہ مون سون سسٹم بھارت سےسندھ میں داخل ہوگیا، آج کل اور جمعہ کو کراچی میں گرج چمک کیساتھ بارشیں ہوں گی، جمعہ کی رات مون سون کاسسٹم کمزور ہو جائے گا، عید الاضحی کےدن بھی موسم ابرآلود رہے گا اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر قائد میں نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اربن فلڈ کا خدشہ ہے۔

خیال رہے کہ محکمہ موسمیات موسلاھاربارشوں سےمتعلق وارننگ پہلے ہی جاری کرچکا ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے تیز بارش کی پیشگوئی کے مدنظر صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، سندھ کے سینیئر وزیر نثار کھوڑو نے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کاہنگامی اجلاس طلب کریں اور ممکنہ بارشوں سے ہونے والے نقصان سے بچائو کی تدابیر اختیارکریں۔


مزید پڑھیں : بارشوں کے دوران کی جانے والی احتیاطی تدابیر


سینیئر وزیرنثارکھوڑو نے پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بارشوں سے پیدا صورتحال پرعوام کی مدد کریں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے جمعے کے روز تک حیدرآباد،میں آندھی اورتیزبارش متوقع ہے جبکہ مشرقی بلوچستان کے دریاؤں اور ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کے شہروں قلات،کوئٹہ،سبی، ژوب میں کہیں کہیں تیز بارش کاامکان ہے فیصل آباد،سرگودھا،ہزارہ میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش ہو سکتی ہے ۔ گلگت بلتستان اورکشمیر میں بھی کہیں کہیں گرج چمک کیساتھ بارش کاامکان ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top