پیر, فروری 16, 2026
اشتہار

پاکستانی گریجویٹس کے لئے اہم پالیسی کا اعلان

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے انڈر گریجویٹ پروگرامز میں انٹرن شپ اورسرٹیفیکیشنز لازمی قرار دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی گریجویٹس کی روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تمام انڈرگریجویٹ ڈگری پروگرامز میں پروفیشنل انٹرن شپ اور انڈسٹری سے متعلقہ سرٹیفیکیشنز لازمی قرار دے دی ہے۔

یہ نئی پالیسی "انڈرگریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023” پر مبنی ہے اور اس کا مقصد تعلیمی نصاب اور عملی مہارتوں کے درمیان فرق کو کم کرنا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے تمام سرکاری و نجی جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ طلبا کو عالمی معیار کے مطابق ہنر مند بنانے کے لیے عملی تجربہ اور سرٹیفکیشن کو لازمی بنایا جائے۔

پالیسی کے تحت اب ہر انڈرگریجویٹ پروگرام میں کم از کم 3 کریڈٹ گھنٹوں کی سپروائزڈ انٹرن شپ لازمی ہوگی۔

جامعات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کارپوریٹ اداروں، ایس ایم ایز اور پبلک سیکٹر تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کریں تاکہ طلبا کو اپنے شعبے سے متعلقہ عملی تربیت دی جا سکے۔ اس کے علاوہ آن لائن پلیٹ فارمز اور ریموٹ ورکنگ آپشنز کو بھی انٹرن شپ کا حصہ بنایا جا سکے گا۔

انٹرن شپ کے ساتھ ساتھ پالیسی میں انڈسٹری ریلیونٹ سرٹیفکیشنز کو نصاب میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، یہ سرٹیفکیشنز قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے کرائے جائیں گے تاکہ طلبا براہِ راست مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔

ترجیحی شعبوں میں آئی ٹی و کمپیوٹنگ، ہیلتھ کیئر، کنسٹرکشن، ہائی ٹیک اور ڈیجیٹل اکانومی، اور فنانشل انسٹی ٹیوشنز شامل ہیں۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانی و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کی جانب سے فراہم کردہ ہائی ڈیمانڈ اسکلز کی فہرست ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

ایچ ای سی نے جامعات کو یہ بھی اجازت دی ہے کہ اگر کسی سرٹیفکیشن کے کورس لرننگ آؤٹ کمز نصاب سے مطابقت رکھتے ہیں تو ان کے کریڈٹ آورز تسلیم کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی پروگرامز کے طلبا کے لیے تین کریڈٹ آورز کے برابر بین الاقوامی سرٹیفکیشن کو الیکٹیو کورسز کے متبادل کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔

ایچ ای سی کا یہ اقدام پاکستان میں ایک ہنر مند اور عالمی سطح پر مسابقتی افرادی قوت تیار کرنے کی قومی کاوشوں کا حصہ ہے تاکہ طلبا گریجویشن کے بعد نہ صرف مقامی بلکہ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں