اسلام آباد (6 جنوری 2026): اعلیٰ تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) نے ملکی جامعات کے تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلیے ایک مربوط خودکار نظام ’مکتب‘ متعارف کروا دیا۔
اے پی پی کے مطابق اس جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا مقصد جامعات کے بنیادی نظام کو مؤثر، شفاف اور یکساں بنانا ہے۔ مکتب ایک جامع آٹومیشن سوئٹ ہے جس میں ایس اے پی انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی )، اسٹوڈنٹ لائف سائیکل مینجمنٹ سسٹم (SLcM) اور بلیک بورڈ لرننگ مینجمنٹ سسٹم (ایل ایم ایس ) شامل ہیں۔
یہ نظام عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ان پاکستان منصوبے کے تحت ملک کی 25 سرکاری جامعات میں نافذ کیا گیا ہے۔ اقدام کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں دستی اور منتشر طریقہ کار کی جگہ ایک متحد، ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس سسٹم متعارف کروایا گیا ہے جو فیصلہ سازی کو مؤثر بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یونیورسٹی آف لکی مروت نے تعلیمی اداروں کو غلط الحاق دیا: ایچ ای سی
پہلے مرحلے میں 25 جامعات کو کامیابی کے ساتھ ایس اے پی پر مبنی ای آر پی اور حسبِ ضرورت SLcM نظام سے منسلک کیا گیا ہے جبکہ بلیک بورڈ ایل ایم ایس کے ذریعے آن لائن، ہائبرڈ اور بلینڈڈ لرننگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہ تمام نظام مل کر پاکستان کے ہائر ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (HEMIS) کی بنیاد فراہم کرتے ہیں جس کا مقصد بہتر گورننس، احتساب اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو یقینی بنانا ہے۔
مکتب کی افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ تقریب میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر، چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد، شریک جامعات کے وائس چانسلرز، ترقیاتی شراکت داران اور دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے ایچ ای سی اور شریک جامعات کو مکتب کے کامیاب نفاذ پر مبارکباد دی اور اسے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کیلیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک ڈیجیٹل نظام کا اجرا نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور طویل المدتی ترقی کے عزم کی عکاسی ہے۔
ان کے مطابق 21ویں صدی میں مضبوط ادارے اور ہنرمند انسانی وسائل ہی قومی ترقی کی اصل بنیاد ہیں۔
وزیر مملکت وجیہہ قمر نے مکتب کے اجرا کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اعلیٰ تعلیم میں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور معیار کو فروغ دے گا۔
انہوں نے مکتب کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی ) کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے پورے ملک میں وسعت دی جا سکے۔
چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب نے تمام شراکت داروں اور ترقیاتی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مکتب ایک مکمل قومی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے جامعات پر زور دیا کہ وہ اس نظام کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ اعلیٰ تعلیمی نظام مزید مضبوط اور جوابدہ بن سکے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ مکتب کے ذریعے جامعات کے تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی امور میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس بڑے پیمانے کی اصلاحات میں درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے مسلسل تعاون اور ادارہ جاتی ملکیت کو کامیابی کی کنجی قرار دیا۔
تقریب میں پراجیکٹ کوآرڈینیٹر HEDP سید نوید حسین شاہ نے مکتب کی خصوصیات اور نفاذ کی پیشرفت پر بریفنگ دی جبکہ شریک جامعات کے نمائندوں نے اس نظام کے ادارہ جاتی اثرات پر اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔
مکتب کے تحت ایس اے پی پر مبنی ای آر پی نظام کے ذریعے مالیاتی امور، بجٹ سازی، اکاؤنٹنگ، خریداری، اثاثہ جات کے انتظام اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ کو یکجا کیا گیا ہے۔
اسی طرح SLcM کے ذریعے داخلوں سے لے کر نتائج کے اجرا تک طلبہ کے مکمل تعلیمی سفر کو ڈیجیٹل بنایا گیا ہے جبکہ بلیک بورڈ ایل ایم ایس تدریس و تعلم کے جدید تقاضوں کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق مکتب کا نفاذ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو جدید، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔


